اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاونسز میں اضافے کا بل کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد(آن لائن)اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاونسز میں اضافے سے متعلق بل رومینہ خورشید عالم نے پیش کیا۔ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دے دی۔ یہ بل سینیٹ پہلے ہی منظور کرچکی ہے اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے بل کی مخالفت کی اور نعرے بازی شروع کر دی اس پر سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ جو جو بڑھی ہو ئی تنخواہ نہیں لینا چاہتا لکھ کر دے دے۔آپ لوگ پارلیمنٹ کو جعلی بھی کہتے ہیں اور تنخواہ پوری لیتے ہیں جیسے 2014 میں کیا تھا اوراب خود سنجیدہ نہیں ہوتے۔

واضح رہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ اور مراعات وفاقی سیکرٹری کے برابر کرنے کی منظوری قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے متفقہ منظوری پہلے ہی دے چکی ہے۔ اس اجلاس کی صدارت سپیکر سردار ایاز صادق نے خود کی تھی جس کے تحت اب ایم این اے اور سینیٹر کی ماہانہ تنخواہ و مراعات ٹیکس کی کٹوتی کے بعد 5 لاکھ 19 ہزار مقرر کر دی گئی ہے اس سے قبل ان کی تنخواہیں اور 2لاکھ 18ہزار تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کمیٹی میں تحریک انصاف کے 67 اراکین پارلیمنٹ نے بھی تحریری طور پر تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی پارٹی کے بیشتر اراکین پارلیمنٹ نے ایم این اے اور سینیٹر کی تنخواہ دس لاکھ ماہانہ کا مطالبہ کیا تھا البتہ کمیٹی میں سپیکر ایاز صادق نے یہ مطالبہ مسترد کردیا تھا۔

اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے ردو بدل کا اختیار فنانس کمیٹیوں کو دینے کا بل کثرت رائے سے منظورکر لیا گیا ہے۔کمیٹیاں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ 2لاکھ 18ہزار سے بڑھا کر 5لاکھ 19 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کی منظوری دے چکی ہیں۔

Comments are closed.