اس جبر اور فسطائیت کے دور میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑوں گا ،شیرافضل مروت

اسلام آباد(آن لائن)پی ٹی آئی سے نکالے گئے رہنما شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ وکلا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں ان کے کان بھرتے ہیں ‘کسی کو گرانے کے لیے میرے نام کا استعمال کرتے ہیں کہ میں نے ان کے خلاف بیان دیا ۔میں پارٹی سے اس وقت نکالا جاؤں گا جب پانی پی ٹی آئی جیل سے باہر آئیں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں وکلا پیغام رسانی کرتے ہیں ‘وکلا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں ان کے کان بھرتے ہیں ‘کسی کو گرانے کے لیے میرے نام کا استعمال کرتے ہیں کہ میں نے ان کے خلاف بیان دیا ۔میں پارٹی سے اس وقت نکالا جاؤں گا جب پانی پی ٹی آئی جیل سے باہر آئیں گے۔اس جبر اور فسطائیت کے دور میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑوں گا ۔

سپریم کورٹ میں ابھی تک مخصوص نشستوں کا کیس چل رہا ہے ۔پی ٹی ائی کے 11 پارلیمنٹیرینز نے اپنا ضمیر بیچا ان کے بارے میں خاموشی ہے ۔ضمیر بیچنے والے پارلیمنٹیرینز کو تو پارٹی سے نہیں نکالا ۔جس جس نے پارٹی کی ایک ریلی اور جلسے میں شرکت نہیں کی اسے تو نظر انداز کر دیا گیا ۔جن لوگوں نے پانی پی ٹی ائی کو سوشل میڈیا پر گالیاں دی وہ اب بھی پارٹی کا حصہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہر بار مجھے پارٹی سے نکالنے کی بات کی جاتی ہے ،میری بات اور میرا موقف کسی نے سنا ہی نہیں ہے ،صوابی جلسے میں کارکنان کے نعروں کا احتراماً جواب دیا ،جلسے میں پی ٹی ائی کے ورکر میرے نام کے نعرے لگاتے تھے اور میں انہیں جواب دیتا تھا ۔

Comments are closed.