اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے وہ قانون سازی بھی دیکھی ہے کہ قانون پاس ہوگیا نہ کوئی بحث ہوئی کھلے دل کے ساتھ آپ اپوزیشن کو سنیں حکومت چاہے نہ چاہے اسپیکر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ایوان کو مطمئن رکھے،پورا ملک اس وقت پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہے عام آدمی کے پاس نہ تو روزگار ہے نہ ہی جان و مال کا تحفظ ہے محکموں کے محکمے ملیا میٹ کئے جارہے ہیں ہزاروں لاکھوں بے روزگار ہوتے جارہے ہیں عوام کی نظر میں ہم ذمہ دار ہیں لیکن کوئی سول اتھارٹی موجود نہیں ہے ‘ہمیں اس صورتحال سے نکلنا ہوگامیرے علاقے میں ایسے ایریاز ہیں جسے خالی کرا لیا گیا ہے۔خالی ایریا میں کس کی رٹ ہوگی خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں کوئی حکومت نہیں ہے ‘چوراہے اور گلیاں مسلح لوگوں کے ہاتھ میں ہیں حکومت کی جانب سے ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ‘بند کمروں میں ماروائے پارلیمان پالیسی بنائی جارہی ہے
‘ہمیں بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت نہیں ہے ‘خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ‘ہمارا امن معیشت عزت و آبرو مشترکات قدریں ایک ہیں ہمیں ادراک ہونا چاہیے کہ دو صوبوں میں حکومتی رٹ موجود نہیں ہے یہ ملک نئے آزمائشوں کا متحمل نہیں ہوسکتامعاملات سیاستدانوں کے حوالے کیے جائیں اور مذاکرات کیے جائیں ہمارے فیصلے اقوام متحدہ میں ہوتے ہیں اس کے بعد ہمارا آئین و قانون غیر موثر ہوجاتا ہیمعیشت کو آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کنٹرول کرتا ہے ‘اب آئی ایم ایف حکومت کی بجائے عدلیہ سے بات کررہا ہے‘حکومت کا عدلیہ سے کیا سروکار ہے ۔دینی مدارس کے حوالے سے قانون پاس کیا تو کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی ادارے کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے،اس حوالے سے صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی نہیں ہورہی آج امریکہ نیتن یاہو کو سپورٹ کررہا ہے صدام حسین کو لٹکایا جاسکتا ہے تو نتین یاہو کو پھانسی دینی چاہیے تھی فلسطینی آبادی پر یہودی آبادی کا بوجھ ڈال دیا گیا ٹرمپ نے کہا غزہ ہمارا ہے وہ ہوتے کون ہیں‘ خیبرپختونخوا میں خلا میں جانے والے میزائلوں میں استعمال ہونے والے پتھر ہیں ان پتھروں کی ضرورت امریکہ چین اور روس کو ہیٹرمپ اگر غزہ کے بارے میں بات کرسکتا ہے تو پاکستان کے بارے میں بات کرسکتا ہے
‘ہر قبائلی ضلع امن کی بھیک مانگ رہا ہے تمہیں اپنے پشتونوں اور بلوچوں کی عزت کا خیال نہیں ہے‘ہم معاونت کیلئے تیار ہیں لیکن فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کے ساتھ بیٹھیں یہ بچوں کی طرح بات نہیں سننا چاہتییہ اپنی ناجائز اولادوں کے فیصلے کروانا چاہتے ہیں پھر بیٹھیں گے ۔ان کیلئے سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی ہے اپوزیشن اراکین کا احتجاج کورم کی نشاندہی ڈپٹی سپیکر نے گنتی کی ہداہت کردی اپوزیشن نے واک آؤٹ کردیا قومی اسمبلی کا اجلاس کل دن گیارہ بجے تک ملتوی کردیاگیا۔
Comments are closed.