سویلین ٹرائل کیس :سپریم کورٹ انڈر ٹرائل نہیں، جسٹس امین الدین کے ریمارکس

اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران بنچ کے رکن ، جسٹس جمال مندوخیل نے سردار لطیف کھوسہ سے مخاطب ہوکر ریمارکس دیے کہ کھوسہ صاحب تاریخ میں جائیں تو آپکی بڑی لمبی پروفائل ہے، آپ وفاقی وزیر، سینیٹر، رکن اسمبلی، گورنر اور اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں، آپ نے ان عہدوں پر رہتے ہوئے ٹو ڈی سیکشن ختم کرنے کے لیے کیا قدم اٹھایا، ہماری طرف سے بے شک آج پارلیمنٹ اس سیکشن کا ختم کردیں۔جبکہ جواب میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ کے سامنے ہیں 26 ترمیم کیسے پاس ہوئی، آپ فیصلہ دیں ہم فیصلہ پر عمل در آمد کروائیں گے، سویلین کا ٹرائل ختم کرنے پر عوام آپ کے شیدائی ہو جائیں گے، 26 ترمیم کیسے پاس ہوئی زبردستی ووٹ ڈلوائے گئے۔

انھوں نے یہ دلائل بدھ کے روزدیے ہیں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس دوران لطیف کھوسہ نے کہا کہ پوری قوم کی نظریں اس کیس پر ہے،اس کیس کی وجہ سے سپریم کورٹ انڈر ٹرائل ہے۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ انڈر ٹرائل نہیں ہے، عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کا تاریخ پھر جائزہ لیتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ لطیف کھوسہ صاحب آپکا چشمہ آگیا ہے، قانونی نکات پر دلائل شروع کریں، پہلے سیکشن ٹو ڈی کی قانونی حیثیت پر دلائل دیں۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سیکشن ٹو ڈی کو نو اور دس مئی کیساتھ مکس نہ کریں، پہلے ان سیکشن کی آزادانہ حیثیت کا جائزہ پیش کریں،

سیکشن ٹو ڈی کا نو مئی دس مئی پر اطلاق ہوتا ہے یا نہیں۔، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کھوسہ صاحب تاریخ میں جائیں تو آپکی بڑی لمبی پروفائل ہے، آپ وفاقی وزیر، سینیٹر، رکن اسمبلی، گورنر اور اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں، آپ نے ان عہدوں پر رہتے ہوئے ٹو ڈی سیکشن ختم کرنے کے لیے کیا قدم اٹھایا، ہماری طرف سے بے شک آج پارلیمنٹ اس سیکشن کا ختم کردیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آپ کچھ اور بات یہاں کچھ اور بات کرتے ہیں، فوجی عدالتیں بعد میں بنی، سقوط ڈھاکہ کی وجوہات کچھ اور تھیں۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ کے سامنے ہیں 26 ترمیم کیسے پاس ہوئی، آپ فیصلہ دیں ہم فیصلہ پر عمل در آمد کروائیں گے، سویلین کا ٹرائل ختم کرنے پر عوام آپ کے شیدائی ہو جائیں گے، 26 ترمیم کیسے پاس ہوئی زبردستی ووٹ ڈلوائے گئے۔

Comments are closed.