اسلام آباد (آن لائن)جوائنٹ ایکشن کمیٹی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان نیصدر مملکت آصف علی زرداری ،وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام خط لکھا ہے اور 15 فروری 2025 کو غیر قانونی طریقے سے نکالے گئے تمام ڈیلی ویجز ملازمین کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 4 مارچ کو اسلام آباد میں پرامن احتجاج کیا جائیگا جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی یوٹیلیٹی سٹورز کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہاگیا ہے کہیوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان، دستور پاکستان کی دفعہ 38 کی شک (ڈی) کے تحت ملک کی غریب عوام کو اشیا خر دو لوش ستے داموں فراہم کرنے کے لیے گذشتہ 53 سالوں سے کام کر رہا ہے اس ادارے نے ملک میں آنے والی قدرتی آفات، زلزلہ، سیلاب اور کرونا جیسی وہاوں میں عوام کو اشیا خر دو نوش فراہم کرنے کے لئے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن ہی ملک کا واحد ادارہ ہے جو فورڈ سیکیورٹی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنے یوم تاسیس تے آج تک قومی خزانے پر بوجھہ نہیں رہا۔ یہ واحد ادارہ ہے جو اپنے ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر آپریشنل اخراجات بھی اپنے وسائل سے ادا کرتا ہے اگر حکومت اس ادارے کے ذریعے کبھی عوام کو مختلف اشیا پر سبسڈی دیتی ہے تو یوٹیلیٹی سٹورز اس پر سروس چارجز بھی نہیں لیتا اور حکومتی سمبسیڈی کو عوام تک پہنچاتا تھا۔ لیکن حکومت ( ایف بی آر) یوٹیلٹی سٹورز سے ٹیکس تو اترتے لیتی ہے بلکہ بعض اوقات یوٹیلیٹی سٹورز کے اکاونٹ سیز کر کے ان سے تمام رقم ضبط بھی کرلی جاتی ہے۔ حکومتی احکامات کو پورا کرنے کے لئے اپنی پوری مشینری کو بروئے کار لاتے ہوئے تن دہی سے کام کیا جاتا ہے
جبکہ حکومتی رویہ ہمیشہ اس کے بر عکس رہا ہے۔ وزیر اعظم صاحب کی بیان کے مطابق اس ادارے میں کرپشن ہے۔ تو اس کے جواب میں اتنا ہی کہیں گئے کہ اس ادارے کا چیف ایگز یکٹیو ان ہی کی حکومت کا تعینات کردہ ہوتا ہے۔ اس سے پوچھنا انہی کا کام ہے۔ دوسرا بیان کہ اس کی اشیا معیاری نہیں ہوتی۔ گزارش یہ ہے ک? پاسکو کی گندم حکومت ہی مہیا کرتی ہے جو معیاری نہیں ہوتی۔ خط میں مزید کہاگیا ہے کہ فنانس بل 25-2024 میں یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے عوام کو مہنگائی کے خلاف ریلیف دینے کے لیے 60 ارب روپے کی منظوری دی گئی لیکن حکومت پاکستان نے ایک زبانی حکم پر 18 اگست 2024 سے یوٹیلیٹی سٹورز کو عوام کو سبسیڈی دینے سے روک دیا اور ایک عوام دوست ادارے کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس پر یوٹیلیٹی سٹورز کی تینوں یونینز نے اسلام آباد میں احتجاجی دھر نامورخہ 24 اگست 2024 سے 2 ستمبر 2024 تک پر امن طریقے سے دیا وفاقی وزیر صعنت و پیداوار جناب رانا تنویر حسین صاحب کی یقین دہانی پر یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو نہ تو بند کیا جارہا ہے نہ ہی اس کی نجکاری کی جائے گی اور نہ ہی کسی ما ازم کو نوکری سے نکالا جائے گا جس کی تصدیق انہوں نے قومی اسمبلی میں محترمہ آصفہ بھٹو صاحبہ اور دیگر ممبران قومی اسمبلی کے توجہ دلاو نوٹس کے جواب میں تقریر کرتے ہوئے کہا جو کہ قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ خط میں کہاگیا کہ اس کے باوجود یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور فنانس بل میں منظور شدہ سبسیڈی کی رقم بھی جاری نہیں کی گئی۔ حکومتی شخصیات کی طرف سے غیر حقیقی الزامات اور کارپوریشن کے میڈیاٹرائل کی وجہ سے کارپوریشن کا بزنس تباہ کیا اور مورخہ 15 فروری کو بغیر کسی وجہ کے غیر قانونی طور پر تقریبا 2900 لیلی و مجز ملازمین جو کہ گذشتہ 15 سے 20 سالوں سے اس کارپوریشن میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے اور مستقل پوسٹوں پر کام کر رہے تھے کو یک جنبش قلم بر طرف کر دیا گیا جبکہ کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی یونینز کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کئے گئے وعدے اور قومی اسمبلی آف پاکستان میں محترم وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کے واضح بیان کی نفی ہے
جس سے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ہزاروں ملازمین مین مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ جس کے بعد ہمارے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا آئینی راستہ نہیں بچا۔ ہم مندرجہ ذیل مطالبات آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے یہ جائز مطالبات 27 فروری سے قبل تسلیم کئے جائیں بصورت دیگر ہم اپنے جائز مطالبات کی منظوری تک مورخہ 4 مارچ 2025 سے یوٹیلیٹی سٹورز ہیڈ آفس اسلام آباد کے سامنے بطور احتجاج پر امن دھر نا شروع کریں گے جس میں یوٹیلیٹی سٹورز کے ہز ار و ملازمین اپنے اہل خانے کے ہمراہ شرکت کریں گے اور دھر نام طالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان نے لکھے گئے خط میں اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ 15 فروری 2025 کو غیر قانونی طریقے سے نکالے گئے تمام ڈیلی ویجز ملازمین کو بحال کیا جائے۔قومی اسمبلی اور سینٹ آف پاکستان سے منظور شدہ فنانس بل کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو سبسڈی کی مد میں 60 ارب روپیہ جاری کیا جائے یا20 ارب روپے کا ایل آوٹ پیکیج دیا جائے۔یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے ایک بی آر کے ذمہ 12 ارب روپے فوری طور پر یوٹیلٹی سٹورز کو ادا کر وائے جائیں۔تمام ملازمین کے لئے گر یجو کئی کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔تمام ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو قانون کے مطابق فوری طور پر ریگولر کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ تمام ملازمین کی تنخواہواں میں 25 فیصد اور 15 فیصد ڈسپیریٹی الاونس کے ساتھ ساتھ 35 فیصد اور 25 فیصد ایڈہاک الاونس کے تمام بقایا جات فوری طور پر ادا کئے جائیں۔ اور اسی طرح سالانہ ایگریمنٹ جود سمبر میں مانا تھی۔ نہیں ملی۔ اس کو بھی فوری طور پر ادا کیا جائے۔ تمام سیکڈ ملازمین کی غیر قانونی کٹوتی کو فوری طور پر بند کر کے کاٹی ہوئی رقم فوری طور پر واپس ادا کی جائے۔ اور ریویو بورڈ والے 16 سیکنڈ ملازمین کو جو ائننگ دی جائے۔ دیگر پرائیویٹ سیکٹر اور سی ایس ڈی سٹورز کی طرح یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو عوام کے لیے کموڈیٹی اشیا کی خریداری پر پیپر ارولز سے استثنی دیاجائے۔،ادارے کو عوام کے لیے بہتر طریقے سے چالا سے چلانے کے لئے وزارت صنعت و پیداوار، یوٹیلٹی سٹورز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز، یوٹیلیٹی سٹورز کی منیجمنٹ اور یوٹیلیٹی سٹورز کی تمام یونینز کے نمائندوں پر مشتمل با اختیار کمیٹی بناکر کارپوریشن کو عوامی مفاد کا بہترین ادارہ بنایا جائے۔
Comments are closed.