ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں 4457 ارب روپے کی رقم کے 1 لاکھ 8 ہزار 366مقدمات زیرالتواء

اسلام آباد(آن لائن) ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں 1 لاکھ 8 ہزار 366 ایسے مقدمات زیر التوا ہونے کا انکشاف ہوا ہے جن میں 4457 ارب روپے کی رقم شامل ہے۔جس پر سپریم کورٹ میں ایک اے ڈی آر یونٹ اور اسی طرح سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس میں ایک اے ڈی آر سیل قائم کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔تفصیل کے مطابق ملک بھر کی عدالتوں میں اربوں روپے کے ٹیکس ریونیو کی وصولی میں مشکلات کا سامنا ہے اور سپریم کورٹ کی ٹیکس مقدمات کے حل کیلئے بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات منظر عام پر آگئیں۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت 7 نومبر 2024 کے ایک اجلاس میں اہم انکشاف ہوا کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں 1 لاکھ 8 ہزار 366 ایسے مقدمات زیر التوا ہیں جن میں 4457 ارب روپے کی رقم شامل ہے۔اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ سپریم کورٹ میں تقریبا 6 ہزار ریونیو کے مقدمات زیر التوا ہیں،تقریبا دو ہزار کیسز مختلف ٹربیونلز اور عدالتوں میں زیر التوا ہیں جن میں حکم امتناع جاری کیے جا چکے ہیں۔سپریم کورٹ کمیٹی نے تجویز دی کہ سپریم کورٹ میں ایک اے ڈی آر یونٹ قائم کیا جائے تاکہ ایف بی آر اور دیگر ریاستی اداروں کے اے ڈی آر نظام کی نگرانی کی جا سکے، اور اسی طرح سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس میں ایک اے ڈی آر سیل قائم کیا جائے۔

Comments are closed.