بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی کی شدید مذمت،اعلیٰ عدلیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے اس پر پارٹی کو سخت تشویش ہے اگر اس کانوٹس نہیں لیا گیا تو سخت ردعمل سامنے آئے گا۔سوموار کو ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہاکہ بہت اہم مسئلے پر بات کرنا چاتہے ہیں جس کا تعلق بانی پی ٹی آئی کی ذات سے ہے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی سے پارٹی کو سخت تشویش ہے انہوں نے کہاکہ فسطائی حکومت بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقاتوں کی بندش سے کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے یہ شرم کامقام ہے اور نفسیاتی طور پر ان کو توڑنا چاہتی ہے مگر اس میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی بہت مضبوط اعصاف کے مالک ہیں وہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے ٹوٹ نہیں سکتے ہیں مگر یہ پارٹی کو کسی بھی طور پر قبول نہیں ہے کہ ان کے قائد کو ایسے حالات سے گزارا جائے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی سے چھ ماہ میں صرف ایک سیاسی ملاقات کی اجازت دی گئی ہے اور اب جو ملاقاتیں ہورہی ہیں وہ عدالت کے حکم پر ہے جس میں پارٹی کے سیاسی لوگ ایک دن جبکہ ایک دن ووکلا اور خاندان کے لوگ مل سکتے ہیں مگر اس پر بھی عمل نہیں ہورہا ہے اور پارٹی کے سینیٹرز ،ایم این اے اور ایم پی اییز کو عدالتی احکامات کے باوجود ملنے نہیں دیا جارہا ہے اور ہمارے لوگوں کو ملنے کیلئے عدالت میں جانا پڑتا ہے

انہوں نے کہاکہ قانون یہ حق قیدی کو دیتا ہے مگر ہمیں اس حق کیلئے بھی عدالت میں جانا پڑتا ہے اس کے باوجود بھی ہمیں حق نہیں ملتا ہے اور توہین عدالت کے باوجود ہمیں ملنے نہیں دیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ جیل حکام کی جانب سے بار بار کی یقین دہانی کے باوجود بھی ہمیں ملنے نہیں دیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ ہم قانون کی حدود میں رہتے ہوئے اپنا حق مانگنا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو بھی کئی کئی ہفتے ملنے نہیں دیا جاتا ہے اور اسی طرح ووکلا کو بھی روک دیا گیا جس کا مطب یہ ہے کہ قیدی کے حق کو غصب کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ عدالتوں کو اپنے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی کتابین روک لی جاتی ہیں اور اس کیلئے بھی ہمیں عدالت جانا پڑتا ہے انہوں نے کہاکہ یہی سلسلہ اخبارات کے حوالے سے بھی ہے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی اہلیہ کی ملاقاتیں دو بار کنسل کی گئیں جیل حکام اپنی مرضی سے یہ ملاقاتیں اپنی مرضی سے کراتے ہیں اسی طرح بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی ان کے رشتہ داروں کی ملاقاتیں نہیں کرائی جاتی ہیں انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی سے ان کے بچوں کی بات نہیں کرائی جاتی ہے ہمارے ووکلا چکر لگاتے رہتے ہیں اور ان کو وکالت نامے پر دستخط کرانے کیلئے بھی کئی کئی روز تک ملاقاتیں نہیں کرائی جاتی ہیں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے ورکروں کو اشتعال دلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ اخری ملاقات میں ان کی صحت بلکل ٹھیک تھی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بے بنیاد خبریں چلائی گئیں انہوں نے کہاکہ کچھ سرکاری درباری صحافیوں نے کچھ ٹویٹس دوبارہ کی ہیں بانی پی ٹی آئی کا ریگولر چیک اپ ہوتا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا چیک آپ ذاتی معالج سے کرایا جائے اور اس کے لئے ہم دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے کہ اس کے پینل میں ہمارے ڈاکٹرز بھی موجود ہوں انہوں نے کہاکہ ہم کچھ بھی نہیں بھولے ہیں

ہم چاہتے ہیں کہ ان کو قیدی کے اپنے حقوق ملنے چاہیے انہوں نے کہاکہ جو رویہ اختیار کیا گیا ہے اس کا مقصد ان کو پریشرائز کرنا ہے اور ماضی میں یہ اس میں ناکام رہے ہیں ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کے احکامات کا آڈیالہ میں روز مذاق اڑایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چھ ووکلا کو ملنے کی اجازت دی جائے اور اسی طرح فیملی کو بھی ملنے کی اجازت ہونی چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا سخت ردعمل آئے گا انہوں نے کہاکہ حکومت نے چالیس لاکھ افراد کو فی کس 5ہزار دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ مذاق ہے اس وقت مہنگائی بہت بڑھ چکی ہے اور اس کے برعکس خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے غریب خاندانوں کو 10ہزار روپے دئیے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے گذشتہ ایک سال کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے اپنی عیاشیوں پر کئے جانے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کی ہیں اگر یہی رقم ان فیملیز کو مل جاتی تو بہتر ہوتا انہوں نے کہاکہ مہنگائی کے تناسب سے جو رقم دی جارہی ہے یہ مذاق ہے حکومت اشتہارات کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کر رہی ہے حکومت جتنے مرضی اشتہارات دیدے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا

Comments are closed.