اسلام آباد (آن لائن) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ دہشتگرد شریف اللہ کو اقوام متحدہ کے قانون کے مطابق گرفتار اور امریکہ کے حوالے کیا گیا ہے ، دونوں ممالک نے انسداد دہشتگردی کے لئے تعاون جاری رکھنے اور تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیاتی تبدیلی اور صحت پر مزید بات چیت پر اتفاق کیا ہے ۔ افغانستان سے بہتر ہمسائیگی پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں تاہم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی کابل میں محفوظ پناہ گاہیں خوشگوار تعلقات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا امریکی مشیر سلامتی کی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو کال موصول ہوئی ہے ۔ جس میں انہوں نے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو سرہایا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیاتی تبدیلی اور صحت پر مزید بات چیت پر بھی اتفاق ہوا ہے ۔ دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا ا ظہار کیا ہے ۔ ترجمان نے بتایا اسحاق ڈار نے افغانستان میں رہ جانے والے جدید امریکی عسکری ساز و سامان پر بھی بات چیت کی ہے ۔ ترجمان نے کہا اسحاق ڈار کو آزربائیجان کے ہم منصب کی بھی ٹیلیفون کال موصول ہوئی ہے ۔ پاک اٹلی باہمی سیاسی مشاورت کا حالیہ دور روم میں منعقد ہوا ہے ۔ ترجمان نے غزہ میں انتہائی ضروری امداد کے داخلے پر پابندی کے اسرائیلی فیصلے کی بھی مذمت کی ۔ ترجمان نے بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے چاڈم ہاوس لندن میں مقبوضہ کشمیر پر بیان کو مسترد کرتے ہوے کہا کشمیریوں کے صدیوں پرانے تحفظات کو اقتصادی بحالی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے ۔
ترجمان نے کہا نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں ۔ جہاں وہ سعودی عرب میں او آئی سی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس فلسطین کی بگڑتی ہوئی صورتحال، اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران پر منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کے آبائی وطن سے بے دخل کرنے کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال ہو گا۔ کانفرنس میں نائب وزیر اعظم فلسطینی عوام اور ان کے جائز موٴقف کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کریں گے۔ ترجمان نے دہشت گرد کمانڈر شریف اللہ کی گرفتاری پر بات کرتے ہوے کہا کہ وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر اس گرفتاری کا پیغام دیا ہے ۔ ہم علاقائی امن و استحکام کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھیں گے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت شریف اللہ کو گرفتار اور امریکہ کے حوالے کیا ہے ۔ شریف اللہ کو کس قانون کے تحت امریکہ کے حوالے کیا گیا اس پر وزارت قانون بہتر بتا سکتی ہے ۔مجھے اس معاملے پر کسی قسم کی کوئی پریشانی یا کوئی خوف دکھائی نہیں دیتا ۔ وزیر اعظم کا شریف اللہ کی گرفتاری پر ردعمل ایک ریاستی ردعمل تھا۔ ترجمان نے کہا دہشت گرد شریف اللہ کی گرفتاری اور حوالگی پر کوئی فل سٹاپ نہیں ہے۔ یہ گرفتاری اور حوالگی جیسے آپریشن کسی ایک واقعہ کے مرہون منت نہیں ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قونصلر رابطے جاری رہتے ہیں۔ ترجمان نے کہا بگرام ائیر بیس واپس لینے یا نہ لینے کا معاملہ افغان اور امریکی حکومت کے درمیان ہے۔ ہم افغانستان سے بہتر ہمسائیگی پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں تاہم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں
جو دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں امریکی چھوڑے گئے ہتھیار خطے میں امن کی صورتحال کے لئے سنگین مسئلہ ہے۔اگر امریکہ اپنے چھوڑے گئے ہتھیار افغانستان سے واپس لے لیتا ہے تو اس سے خطے میں امن بحال ہو گا ۔ ترجمان نے کہا افغان سائیڈ نے پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جانب دو سرحدی چوکیوں کی تعمیر کی کوشیش کی۔ منع کرنے پر انہوں نے پاکستان کی جانب فائرنگ بھی کی۔ ان افغان سرگرمیوں کا نتیجہ پاک افغان سرحد کی بندش میں نکلا ہے ۔ ترجمان نے ہم افغانستان کی جانب سے داعش کے پاکستان میں کیمپوں کے الزامات کی کی بھی شدید مذمت کرتے ہوے انھیں سختی سے مسترد کیا ۔ ترجمان نے کہا یوکرین پر ہماری پالیسی واضح ہے۔ ہم یوکرین میں امن چاہتے ہیں۔ ہمارے روس اور یوکرین دونوں سے مثبت تعلقات ہیں۔ ترجمان نے پاکستانیوں اور افغانیوں پر امریکہ کی سفری پابندیوں بارے لاعلمی کا اظہار کیا ۔ ترجمان نے کہا وزیر خارجہ کے دورہ افغانستان کی کوئی باقا عدہ طے شدہ تاریخ نہیں ہے۔
Comments are closed.