ایوان بالا میں سینیٹر عون عباس پبی کی گرفتاری پر اپوزیشن کا شدید احتجاج،واک آؤٹ

ڈپٹی چیرمین سینیٹ اور بلوچستان عوام پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ
عون عباس سے فون مانگا گیا نہ دینے پر گھرکی توڑ پھوڑ کی گئی ،شبلی فراز کا ایوان میں اظہار خیال
نظام کو قانون اور ضابطے کے تحت چلنا چاہیے ،گرفتاری کی اطلاع ہونی چاہیے، معلومات لیکر ایوان کو آگاہ کروں گا،اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد(آن لائن)ایوان بالا میں پی ٹی آئی کے سینیٹر عون عباس پبی کی گرفتاری پر اپوزیشن کا شدید احتجاج ،وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ سینیٹر عون عباس کو غیر قانونی شکار کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔اجلاس کے دوران ڈپٹی چیرمین سینیٹ اور بلوچستان عوام پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ،اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجاً سینیٹ سے واک آوٹ کیا۔جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیرمین سینیٹر سیدال ناصر کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ایوان کے ایک اور سینیٹر عون عباس پبی کو ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ جس طرح سے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ایوان کو اہمیت دی جائے انہوں نے کہاکہ اگر یہاں پر پروڈکشن آرڈر پر کوئی عمل داری نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ایکشن لیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ اگر ایوان کے ممبر کو اٹھا لیا گیا ہے اس حوالے سے سیکرٹریٹ بتائے کہ ان کے علم میں یہ بات لائی گئی ہے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر تو یہ ایوان بالا ایک مذاق بن گیا ہے انہوں نے کہاکہ ابھی تک ہمیں اس حوالے سے اگاہ نہیں کیا گیا ہے اس موقع پر وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ نظام کو قانون اور ضابطے کے تحت چلنا چاہیے اور ہمیں جو استحقاق حاصل ہے تو گرفتاری کی اطلاع ہونی چاہیے ا نہوں نے کہاکہ مجھے بھی اس کا علم نہیں تھا میں نے پتہ کیا تو ملتان پولیس کے علم میں نہیں ہے البتہ بہاولپور پولیس کے پولیس سٹیشن دراوڑ کی یہ ایف آئی آر ہے جہاں پر غیر قانونی شکار سے متعلق ایف آئی آر درج ہے انہوں نے کہاکہ یہ ابتدائی اطلاعات ہیں جو کہ مجھے ملی ہیں اور اس حوالے سے ایوان کو اگاہ کرونگا اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہمارے پاس تصاویر ہیں جو کہ ان کے گھر کے اندرون اور بیرون مناظر کے ہیں ان کے گھر کو بری طرح سے توڑا گیا ہے انہوں نے کہاکہ قانونی طور پر گرفتاری کا وارنٹ ہوتا ہے سینیٹر عون عباس سے فون مانگے گئے ہیں مگر انہوں نے فون نہیں دئیے تو پورا گھر توڑ دیا ہے

انہوں نے کہاکہ ان کی فیکٹری پر بھی گئے ہیں ایسا نہیں ہوتا ہے ہمیں اس قسم کی باتیں ایک بھونڈا مذاق لگتا ہے انہوں نے کہاکہ سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر بات نہیں ہورہی ہے سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے استعفیٰ دیاہے تاہم اس کو ابھی تک منظور نہیں کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کیلئے جو طریقہ کار بنایا گیا ہے یہ درست نہیں ہے سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ جو سیاسی انتقام جاری ہے جب یہ بتایا گیا کہ غیر قانونی شکار کی ایف آئی آر ہے حکومت عقل کے ناخن لے اس طرح کی گرفتاری لینا اس ایوان کے ساتھ مذاق ہے ان کو جان بوجھ کر گرفتار کیا گیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ایوان کی کاروائی آگے چلانے سے پہلے اس معاملے پر رولنگ دیں اس موقع پر وفاقی قانون و پارلیمانی امور نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب وائلڈ لائف کی جانب سے چنکارہ ہرن کے شکار کے حوالے سے یہ ایف آئی آر ہوئی ہے یہ پنجاب حکومت کا معاملہ ہے اور اس کی مذید تفصیلات لیں گے انہوں نے کہاکہ چولستان میں غیر قانونی شکار کے حوالے سے کافی سختی کی جارہی ہے میں یہ معاملہ صوبائی حکومت کے ساتھ اٹھا رہا ہوں جو بھی قانونی معاونت کی ضرورت ہوگی وہ فراہم کریں گے اور جو بھی قانون کے مطابق معاونت ہوگی ہم فراہم کریں گے سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ پنجاب میں بھی انہی کی حکومت ہے اگر ہم نے اپنے اراکین کو عزت دینی ہے تو ہمیں فوری فیصلے کرنے ہونگے انہوں نے کہاکہ ہم احتجاجاً اس ایوان سے واک آوٹ کریں گے اس موقع پر ڈپٹی چیرمین سینیٹر سیدال ناصر نے کہاکہ رات کو دو تین چینلز پر دیکھا کہ ڈپٹی چیرمین ہمیں وقت نہیں دے دیتے ہیں میں واضح کرتا ہوں کہ اس ایوان کو کسی کے پریشر ،ذاتی خواہشات یا ڈکٹیشن پر نہیں چلانا ہے اس ایوان کو رولز کے تحت چلانا ہے

انہوں نے کہاکہ بڑے بڑے ناموں والے لوگ اس ایون میں آئے ہیں اور اس وقت بھی اپوزیشن ہوتی تھی اور ایوان بڑی عزت اور احترام کے ساتھ چلائے جاتے تھے انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں سب کو بات کرنے کا حق ہے مگر رول آف لاء کے تحت انہوں نے کہاکہ سینیٹر عون عباس کی طرح سب کی عزت ہے میں اس ایوان کو قانون کے تحت چلاؤنگا کسی کی دباؤ برداشت نہیں کرونگا انہوں نے کہاکہ کارکردگی کایہ مطلب نہیں کہ اس ایوان کی کاروائی کو بلڈوز کیا جائے انہوں نے کہاکہ اس ایوان سینیٹر منظور کاکڑ نے کہاکہ سینیٹر محسن عزیز نے ایک بل پیش کیا اور اس پر گنتی ہوئی جو اپوزیشن کی زیادہ تھی اس دن یہ آئین اور رول کہاں تھا جب آپ کی باری آتی ہے تو سب ٹھیک ہے مگر جب ہماری باری آتی ہے تو رولز یاد آتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے سب دیکھا ہے اور صرف یہ بات کرنی تھی کہ جو طریقہ ہاتھ سے بات کرنے کا ہے یہ ٹھیک نہیں ہے انہوں نے کہاکہ وائلڈ لائف کے حوالے سے جو ایف آئی آر کی گئی ہے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں یہ غلط بات ہے آپ ایک معزز سینیٹر کی تذلیل کر رہے ہیں اس ایوان میں سب سینیٹرز معزز ہیں کیا اپوزیشن کے خلاف کاروائیاں مناسب ہے انہوں نے کہاکہ ہم خود حکومت میں ہیں مگر حکومت کا یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے انہوں نے کہاکہ سیاسی انتقام یا سیاسی طور پر کاروائی نہیں ہونی چاہیے کیا سندھ میں جو بچوں کے ساتھ ہورہا ہے کیا وہاں پر کوئی کاروائی ہورہی ہے سندھ میں ڈی ایس پی نے جرم کئے اس کے ساتھ کیا ہوا اس وقت بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں اس پر بات کرنی چاہیے اس سے قبل بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر منظور کاکڑ نے ڈپٹی چیرمین سینیٹ کی جانب سے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا اور کہاکہ ہاتھ کے اشارے سے مجھے بیٹھنے کا حکم نہ دیں۔۔۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.