ہندو کونسل آف آسٹریلیا کے ترجمان بلیش دھانکھر نے پانچ کوریائی خواتین کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عصمت دری کا نشانہ بنایا
جنوبی کوریائی خواتین کو لالچ دینے کے لئے نوکری کے جعلی اشتہارات کا استعمال کیا گیا ،نشہ آور ادویات کا استعمال کر کے خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایاگیا
سڈنی ( آن لائن)آسٹریلیا میں بھارتی کمیونٹی رہنما بلیش دھانکھر کے جرائم: بھارت کا عالمی سطح پر بڑھتا ہوا ریپ کلچر، ہندو کونسل آف آسٹریلیا کے ترجمان بلیش دھانکھر نے پانچ کوریائی خواتین کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عصمت دری کا نشانہ بنایا،جنوبی کوریائی خواتین کو لالچ دینے کے لئے نوکری کے جعلی اشتہارات کا استعمال کیا گیا ،نشہ آور ادویات کا استعمال کر کے خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایاگیا۔بھارت کا "ریپ کلچر” ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو نہ صرف بھارت میں بلکہ عالمی سطح پر پھیل چکا ہے، بھارتی ریپ کلچر ایک ایسی معاشرتی بیماری ہے جو بھارتیوں کی گرتے ہوئی اخلاقی اقدار اور سماجی زوال کی عکاسی کرتی ہے، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جی پی کے سیٹلائٹ گروپ کی بنیاد رکھنے اور ہندو کونسل آف آسٹریلیا کے ترجمان بلیش دھانکھر نے پانچ کوریائی خواتین کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عصمت دری کا نشانہ بنایا،سابق آئی ٹی کنسلٹنٹ 43 سالہ بلیش دھانکھر، ہریانہ سے ہیں،
جن کے والد اجیت دھانکھر ہندوستانی فضائیہ کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور دہلی حکومت میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے طور پر بھی کام کیا ، بلیش دھانکھر کو ڈاو?ننگ سینٹر ڈسٹرکٹ کورٹ آسٹریلیاء میں40 سال کی سزا سنائی گئی، دھانکھر، نے جنوبی کوریائی خواتین کو لالچ دینے کے لئے نوکری کے جعلی اشتہارات کا استعمال کیا اور نشہ آور ادویات کا استعمال کر کے خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا، دھانکھر ایک ایکسل اسپریڈشیٹ پرجعلی نوکری کے اشتہارات کے تمام درخواست دہندگان کی شکل، ذہانت اور خوبصورتی کی بنیاد پر درجہ بندی کرتا، دھانکھر اپنی مستقبل کی جنسی تسکین کے لیے اپنے جرائم کو فلماتا اور ریکارڈ کر کے کمپیوٹر میں رکھتا، تمام خواتین، جن کی عمریں 21 اور 27 کے درمیان تھیں، زیادتی کے وقت یا تو بے ہوش تھیں یا نمایاں طور پر کمزور تھیں، بھارتی کمیونیٹی کے رہنماء کے طور پر سرگرم دھانکھر کا شکاری اور ناقص کردار حیران کن قرار دیا گیا، 2023 میں آسٹریلیا کی ایک عدالت نے اسے 39 جرائم کا مجرم پایا، جن میں جنسی زیادتی کے 13 واقعات شامل ہیں، مودی سرکار اور بی جی پی کا جنسی زیادتی کرنے والوں کی پشت پناہی اور انہیں کمیونٹی لیڈر کے طور پر بلند کرنا خواتین کے حقوق کے تحفظ کے دعووں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
Comments are closed.