سپر ٹیکس آپریشن کے متاثرین کی بحالی کیلئے تھا،جسٹس جمال مندو خیل

حقیقت یہ ہے دہشتگردی کا ہرروز سامنا کرنا پڑتا ہے،ریمارکس
حکومت سے پوچھا جائے سپرٹیکس کی مد میں کتنا ٹیکس اکٹھا ہوا،مخدوم علی خان ،یہ داستان لمبی ہو جائیگی ،جج آئینی بنچ

اسلام آباد( آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں سپر لیوی ٹیکس کیس میں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہاہے کہ سپر ٹیکس آپریشن کے متاثرین کی بحالی کیلئے تھا، حقیقت یہ ہے دہشتگردی کا ہرروز سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ جسٹس محمدعلی مظہر نے کہاکہ سپرٹیکس ایک مرتبہ کیلئے لگایا گیا تھا، سپر ٹیکس کسی خاص مقصد کیلئے لگایا گیا تھا، ایک مرتبہ سپرٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا۔ انھوں نے یہ ریمارکس منگل۔کے روزدیے ہیں سپریم کورٹ میں سپرلیوی ٹیکس کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی ا?ئینی بنچ نے سماعت کی،وکیل کمپنیزمخدوم علی خان نے کہاکہ حکومت سے پوچھا جائے سپرٹیکس کی مد میں کتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ یہ داستان بڑی لمبی ہو جائے گی،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہاکہ سپرٹیکس ایک مرتبہ کیلئے لگایا گیا تھا، سپر ٹیکس کسی خاص مقصد کیلئے لگایا گیا تھا، ایک مرتبہ سپرٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا؟

مخدوم علی خان نے کہاکہ آپریشن سے متاثرہ علاقوں کی بحالی لوکل و صوبائی مسئلہ ہے،عدالت نے کہاکہ اعتراض ہے قومی مجموعی فنڈز سے رقم صوبوں کی رضا مندی کے بغیر کیسے خرچ ہو سکتی ہے، وکیل ایف بی آر نے کہاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ مسلسل عمل ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ کیا دہشتگردی 2020میں ختم ہو گئی ؟حکومت نے 2020میں سپرٹیکس وصولی ختم کردی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سپر ٹیکس آپریشن کے متاثرین کی بحالی کیلئے تھا، حقیقت یہ ہے دہشتگردی کا ہرروز سامنا کرنا پڑتا ہے،وکیل ایف بی آر نے کہاکہ متاثرہین دہشتگردی کے خاتمہ کے نتیجہ بے گھر ہوئے،۔و کیل کمپنیزمخدوم علی خان نے کہاکہ سپرلیوی ٹیکس حکومت نے 2015میں لاگو کیا، ٹیکس نفاذ کا مقصد آپریشن سے متاثرہ علاقوں کی بحالی قرار دیا گیا، حکومت نے منی بل 2015میں ایک مرتبہ سپرٹیکس کا نفاذ کیا، 2015سے 2022تک سپر ٹیکس کا نفاذ جاری رہا، ابتدائی حکومتی تخمینہ 80ارب اکٹھے کرنے کا تھا،نہیں معلوم حکومت نے سپر لیوی ٹیکس کی مد میں کتنی رقم اکٹھی کی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آپریشن سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے حکومتی پلان کیا تھا؟کیا متاثرہ علاقوں کی آبادکاری کا کوئی پی سی ون تیار ہوا،کیا متاثرہ علاقوں کی بحالی کا کوئی تخمینہ لگایا گیا،

کیا منی بل کے ذریعے سروسز پر ٹیکس کا نفاذ کیا جا سکتا ہے؟وکیل کمپنیز نے کہاکہ حکومت آمدن پر پہلے ہی انکم ٹیکس لے چکی تھی،مخدوم علی خان نے کہاکہ ڈبل ٹیکسیشن سے بچنے کیلئے سپرٹیکس کا نام دیاگیا،سوشل ویلفیئر کا سبجیکٹ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے،یہ سپرٹیکس نہیں ٹیکس ہے،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہاکہ کیا سپرلیوی ٹیکس کا نفاذ ایک سال کیلئے تھا،مخدوم علی خان نے کہاکہ ایک سال کیلئے سپر ٹیکس لگایا گیا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کوئی حساب ہے کہ سپر ٹیکس میں کتنی رقم اکٹھی ہوئی؟مخدوم علی خان نے کہاکہ وزیرخزانہ کی کسی تقریر میں سپرٹیکس کی ریکوری اور خرچ کا نہیں بتایا گیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آپریشن کے دوران مجموعی طور پر کتنے لوگ بے گھر ہوئے؟کن علاقوں سے لوگ بے گھر ہوئے؟بعدازاں سپریم کورٹ آئینی بنچ نے کیس کی سماعت آج بدھ تک ملتوی کردی۔

Comments are closed.