جعفر ایکسپریس میں آپریشن مکمل، تمام مغوی بازیاب، 33 دہشتگرد جہنم واصل

آپریشن میں فوج ، ایئر فورس ، ایف سی اور ایس ایس جی نے حصہ لیا
آپریشن کے دوران ایف سی کے 4 جوان شہید، دہشتگرد افغانستان میں رابطے میں تھے ،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ کسی بھی حملہ کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے،: ڈی جی آئی ایس پی آر
واقعے کے چند منٹ بعد ہی بھارتی میڈیا میں گمراہ کن رپورٹنگ شروع ہوئی،ترجمان افواج پاکستان
دہشتگردوں میں خود کش بمبار بھی شامل تھے جنہوں نے معصوم بچوں اور خواتین کو بطور انسانی ڈھال استعمال کیا، دہشتگردوں نے یرغمال مسافروں کو مختلف ٹولیوں میں تقسیم کررکھا تھا، سیکیورٹی ذرائع
راولپنڈی، کوئٹہ ( آن لائن )ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیاہے جس میں ایئرفورس،ایف سی اورایس ایس جی نے حصہ لیا، تمام مغویوں کو بازیاب کروا لیا گیاہے ، آپریشن میں 33 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا تاہم فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کے 4 جوان بھی وطن پر قربان ہوگئے ۔ جعفر ایکسپریس آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ دہشتگردوں نے 11 مارچ کو ایک بجے بولان کے قریب ٹرین کو روکا اور اس میں اس وقت 440 مسافر موجود تھے ، علاقہ دشوار گزار تھا اور دہشتگردوں نے مسافروں کو بطور انسانی شیلڈ استعمال کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ آپریشن کے دوران تمام 33 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیاہے ، دہشتگردوں کی بربریت سے 21 مسافر شہید ہوئے ہیں ، دہشتگرد افغانستان میں رابطے میں تھے تاہم بازیابی کا آپریشن فوری طور پر شروع کیا گیا ، آپریشن میں فوج ، ایئر فورس ، ایف سی اور ایس ایس جی نے حصہ لیا۔انہوں نے کہا شام تک تمام مغویوں کو مرحلہ وار بازیاب کروا لیا گیاہے

، یہ آپریشن انتہائی مہارت اور احتیاط کے ساتھ کیا گیاہے ، آپریشن کے دوران دہشتگردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 4 ایف سی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ بم ڈسپوڑل سکواڈ ٹرین کی جانچ پڑتال کر رہاہے تاہم کچھ دہشتگرد قریبی علاقوں میں بھاگے ہیں ان کو اکٹھا کیا جارہاہے۔ان کا کہناتھا کہ شہریوں کو سڑکوں،ٹرینوں،بازاروں میں نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جو بھی ایسا کرتے ہیں ان کا پیچھا کیا جائے گا، جعفر ایکسپریس حملے نے گیم کے رول تبدیل کر دیئے ہیں، دہشتگردوں کا دین اسلام،پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے 3 ٹولیوں میں مسافروں کو بٹھایا ہوا تھا،ان میں خودکش بمبار تھے، مسافروں کو 3 ٹولیوں میں بٹھایا ہوا تھا،ان میں خودکش بمبار تھے، جوانوں نے سب سے پہلے ان خودکش بمباروں کو نشانہ بنایا، خودکش بمباروں کو نشانہ بنایا گیا تو پھر مسافر ادھر ادھر بھاگے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دوران آپریشن کسی بھی مسافر کو کوئی نقصان نہیں ہوا، آپریشن میں پاک ایئرفورس بھرپور طریقے سے شامل تھی، احتیاط اور مہارت سے آپریشن کیا گیا آج کلیئرنس آپریشن میں کوئی جوان شہید نہیں ہوا، واقعے کے چند منٹ بعد ہی بھارتی میڈیا میں گمراہ کن رپورٹنگ شروع ہوئی۔ دوسری جانب سکیورٹی ذرائع نے بھی بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کامیابی سے مکمل ہو گیا

،تمام مسافروں کو بحفاظت بازیاب کرلیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ اس دہشتگردانہ حملے میں ملوث 33 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا گیا،کلیئرنس آپریشن کے دوران انتہائی مہارت اور احتیاط کا مظاہرہ کیا گیا تاکہ معصوم جانیں بچائی جاسکیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں میں خود کش بمبار بھی شامل تھے جنہوں نے معصوم بچوں اور خواتین کو بطور انسانی ڈھال استعمال کیا،کلیئرنس آپریشن کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دہشتگردوں نے یرغمال مسافروں کو مختلف ٹولیوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کا مزید کہناتھا کہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ”کلیئرنس آپریشن کے بعد بازیاب یرغمال مسافروں کو پاک فوج کے جوان بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں“۔ سکیورٹی ذرائع نے کہاکہ پاک فوج کے جوانوں نے اپنی مہارت سے ایک بھی خود کش بمبار کو پھٹنے کا موقع نہیں دیا،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ کسی بھی حملہ کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Comments are closed.