وزیراعظم کی دورہ سعودی عرب سے واپسی، ایف بی آر کی کارکردگی پر اجلاس

34.5 ارب روپے کی ریکوری پر متعلقہ وزراء ، و افسران کی پزیرائی، مستقل نظام کی تشکیل کیلئے لائحہ عمل طلب کرلیا
وزیرِ اعظم کو ٹیکس کے حوالے سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات، حکومتی ٹیم کے ان مقدمات کی ریکوری کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی
وزیرِ اعظم کو ٹیکس کے حوالے سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے حوالے سے بریفنگ اور حکومتی ٹیم کے ان مقدمات کی ریکوری کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، وزیراعظم
اگر ہمیں پاکستان کی تقدیر کو بدلنا ہے تو نظام میں مستقل بنیادوں پر تبدیلی نا گزیر ہے عوام کی ایک ایک پائی کی حفاظت کیلئے جس قدر ہوسکا، کوشش کریں گے، شہباز شریف

اسلام آباد(آن لائن)وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب سے واپسی کے فوری بعد ایف بی آر کی کارکردگی پر اجلاس، 34.5 ارب روپے کی ریکوری پر متعلقہ وزراء و افسران کی پزیرائی، مستقل نظام کی تشکیل کیلئے لائحہ عمل طلب ۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ٹیکس کے حوالے سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے حوالے سے بریفنگ اور حکومتی ٹیم کے ان مقدمات کی ریکوری کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی جبکہ چیئرمین ایف بی آر نے وزیرِ اعظم کو ایف بی آر کے ڈائریکٹریٹ آف لاء کی اصلاحات، ٹیکس جانچ کیلئے ڈیجیٹل ایلگوریدھم، ٹیکس افسران کی کارکردگی کی جانچ کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر ایف بی آر کی جاری اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی۔وزیرِ اعظم کی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیرِ اعظم ڈاکٹر سید توقیر شاہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوصال، سیکریٹری اطلاعات عنبرین جان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، ڈائیریکٹر جنرل انٹیلیجینس بیورو فواد اسداللہ خان، ڈائیریکٹر جنرل ایف آئی اے جان محمد اور متعلقہ تمام افسران کی اس تاریخی ریکوری کیلئے اقدامات کی خصوصی تعریف کی اور کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم آپکی قومی خزانے کو 34.5 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے پر مشکور ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیصلے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ریکوری قابل ستائش اقدام ہے ایسے بہترین نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ محنت و لگن سچی ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے یہ تاریخی کام آپ جیسی محنتی ٹیم کے ساتھ ہی ممکن تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ 34.5 ارب کی ریکوری ایک اچھی شروعات ہے لیکن ابھی ہمارا سفر شروع ہوا ہے ہمیں مستقل بنیادوں پر ایک پائیدار نظام تشکیل دینا ہے دہائیوں کی خرابیوں کو ہمیں مل کر ٹھیک کرنا ہے۔ وزیراعظم نے ایف بی آر کی ریکوریوں کے حوالے سے مستقل بنیادوں پر مربوط قانونی ڈھانچہ تشکیل دینے ، ایف بی آر کے حوالے سے اصلاحات و ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی ایک لائحہ عمل تشکیل دے کر پیش کرنے ، ایف بی آر کی افرادی قوت کی بہتری کیلئے ایک پلان تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ سو فیصد ڈیجیٹائیزیشن، تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن اور مسلسل نگرانی سے ہی نظام میں بہتری آئے گی ایسے افسران و اہلکار جو کسی بھی قسم کی خردبرد میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف بھرپور کاروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اچھی کارکردگی والے افسران و اہلکاروں کی ستائش بھی یقینی بنائی جائے اگر ہمیں پاکستان کی تقدیر کو بدلنا ہے تو نظام میں مستقل بنیادوں پر تبدیلی نا گزیر ہے عوام کی ایک ایک پائی کی حفاظت کیلئے جس قدر ہوسکا، کوشش کریں گے۔

Comments are closed.