اسلام آباد(آن لائن)حج 2024ء میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے ،چیف فنانس و اکاوٴنٹس آفیسر سمیت پانچ رکنی ٹیم نے مفصل رپورٹ مرتب کرلی ہے ،10 نکات اور 31 صفحات پر مشتمل رپورٹ انٹرنل آڈٹ پر مبنی ہے۔ ذرائع وزارت مذہبی امور کے مطابق انٹرنل آڈٹ پر مبنی رپورٹ جلد ڈی اے سی میں زیر غور آئیگی رپورٹ میں کی گئی نشان دہی پر بھی کچھ اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں 2024ء میں منی میں ناقص رہائشی انتظامات کئے گئے تھے ناقص انتظامات کے سبب بعض حجاج کو نہ صرف پریشانی ہوئی بلکہ انہیں باہر ٹھہرنا پڑا تھا ۔۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ضرورت سے زائد ٹرین ٹکٹس خرید کر مالی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا تھا حاجیوں کیلئے خریدے گئے تحائف میں بھی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جبکہ حج معاونین کی مقامی بھرتیوں میں بھی بڑی بے قاعدگیوں کی نشاندھی کی گئی ہے ۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض مقامی معاونین کو ایک سے زائد تنخواہیں ادا کرکے بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا کم بولی دینے والوں کی بجائے مہنگی نجی گاڑیاں کرایہ پر لے کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے بعض ایسی عمارتیں کرایہ پر خریدی گئیں جن کے استعمال کی بجائے فقط کرایہ ادا کیاگیا تھا حج ویلفیئر فنڈ کا بے دریغ استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ حج سیزن کی بجائے پورا سال میڈیکل مشن مستقل بنیادوں پر قائم کرکے بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور تو اور آب زمزم کی تقسیم میں بھی بڑی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ زیادہ قیمت پر آب زم زم کے معاہدوں کے باوجود بعض حجاج کو انکا حق تک ادا نہیں کیاگیا ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش، شفافیت و نگرانی کے عمل کو سخت کرنے کی بھی تجویز دے دی گئی ہے ۔
Comments are closed.