متروکہ وقف املاک بورڈنے بورڈ کی ملکیتی کروڑوں روپے مالیت کی لال حویلی اور اس سے ملحقہ 4یونٹ کاقبضہ واگزار کرا کے سیل کر دیئے

راولپنڈی (آن لائن)متروکہ وقف املاک بورڈنے بورڈ کی ملکیتی کروڑوں روپے مالیت کی لال حویلی اور اس سے ملحقہ 4یونٹ کاقبضہ واگزار کرا کے سربمہر (سیل)کر دیئے متروکہ وقف املاک نے ڈنگی کھوئی میں دمدمہ مندر اور اس سے ملحقہ دکانیں و اراضی کے علاوہ کالج روڈ پر بھی بورڈ کی ملکیتی دکانیں سیل کر دیں 3 دہائیوں سے زائد عرصہ سے متنازعہ حیثیت اختیار کرنے والی لال حویلی میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد رہائش پذیر تھے جمعرات کی علی الصبح متروکہ وقف املاک کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر کی سربراہی میں ہونے والی کاروائی میں ایف آئی اے، مقامی پولیس اور بورڈکے سکیورٹی عملے حصہ لیاکاروائی سے قبل لال حویلی سمیت ملحقہ یونٹس کی جانچ پڑتال کے بعد مکمل خالی ہونے پرچاروں یونٹس کو سیل کیا گیا لال حویلی اور اس سے ملحقہ یونٹس سیل کرنے کے بعد پراپرٹی بورڈ کی سیکورٹی نے لال حویلی کا کنڑول سنبھال لیا اسی طرح متروکہ وقف املاک نے ڈنگی کھوئی میں دمدمہ مندر اور اس سے ملحقہ دکانیں و اراضی کے علاوہ کالج روڈ پر بھی بورڈ کی ملکیتی دکانیں سیل کر دیں اس موقع پرمتروکہ وقف املاک، ایف آئی اے اور پولیس کی بھاری نفری بوہڑ بازار میں موجودرہی متروکہ وقف املاک بورڈ کے ذرائع کے مطابق بورڈکی ملکیتی جائیدادمیں لال حویلی سمیت بورڈ کی اراضی کے 7 یونٹ شیخ رشید کے قبضے میں ہیں اس طرح لال حویلی کے یونٹ D-157 اور لال حویلی سے متصل بوہڑ بازار کے دیگر6 یونٹس پر شیخ رشید کا قبضہ ہے بورڈکے ذرائع کے مطابق سرکاری اراضی پر وقف املاک بورڑ نے 1994 میں قانونی کاروائی شروع کی اورشیخ رشید کو متعدد نوٹس بھیجے گئے جبکہ سال 2014 میں متروکہ املاک بورڈ نے اراضی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا مقدمہ کیالیکن شیخ رشید کے سیاسی اثر و رسوخ سے مقدمہ مسلسل التوا کا شکار رہا اس طرح سال 2020 میں معاملے کی دوبارہ انکوائری شروع کی گئی تو شیخ رشیداس وقت بھی مختلف بہانوں سے مقدمے کی پیروی سے غیر حاضر رہے بورڈ ذرائع کے مطابق متروکہ وقف املاک بورڈ 1975 کے ایکٹ کی شق25 کے تحت بورڈہر صورت اراضی خالی کرانے کا مجاز ہے لیکن شیخ رشید غلط بیانی کے ذریعے ہمیشہ خود قانونی کاروائی میں رکاوٹ رہے جوکبھی بھی اپنی ملکیت کے ثبوت پیش نہیں کر سکے جبکہ بورڈ کی جانب سے ہونے والی کسی بھی کاروائی کی صورت میں عدالتوں سے رجوع کر کے معاملہ التوا میں ڈال دیتے ہیں اور عدالتی احکامات کے باوجود متروکہ وقف املاک میں پیروی کی بجائے ہمیشہ التوا مانگ لیتے ہیں جس کے لئے شیخ رشید اور ان کے بھائی کو متعدد بار حتمی نوٹس اور وارننگ جاری کی گئی دریں اثنا کاروائی مکمل ہونے کے بعد متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر آصف خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید احمد کے زیر قبضہ لال حویلی کے خلاف کاروائی سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کئے ہیں اور شیخ رشید یا ان کے بھائی شیخ صدیق کو دفاع کا پورا موقع دیا گیا ہے انہوں نے کہا جائیداد نمبر ڈی 157 شیخ برادران کی ملکیت نہیں ہے

اس حوالے ریفرنس میں شیخ برادران کے وکیل نے ریفرنس کا جواب دیا لیکن پھر انہوں چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے روبرو سیکشن 8اور10 کی کاروائی روکنے کے لئے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کردی اس کے باوجود عدالت نے کاروائی رکوانے کی بجائے شیخ برادران کو جواب داخل کرانے اور چیئرمین کے روبرو کاروائی میں پیش ہونے کی ہدایت کی اس طرح چیئرمین کے روبرو کاروائی مکمل ہونے پر جب چیئرمین نے فیصلہ جاری کیا تو ہم نے معمول کے مطابق کاروائی کی اور یہ کاروائی صرف لال حویلی کے خلاف ہی نہیں ہوئی بلکہ ڈنگی کھوئی میں واقع دمدمہ مندر، کالج روڈ اور لیاقت روڈ پر بھی بورڈ کی ملکیتی دکانوں پر کی گئی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیخ برادران بظاہر ڈپٹی کمشنر ، متروکہ وقف املاک اور محکمہ مال میں دی گئی جس رجسٹری کو بنیاد بنا کر ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں اس رجسٹری کی کوئی قانونی حیثیت ہی نہیں ہے اسی رجسٹری کے خلاف ہی تو سیکشن 8اور10 کی کاروائی کی گئی اور ڈی 158 کی رجسٹری منسوخ کی گئی انہوں نے کہا کہ کاروائی کے بعد لال حویلی کا کنٹرول متروکہ وقف املاک نے سنبھال لیاہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ لال حویلی کے خلاف کسی قسم کی کوئی انتقامی کاروائی نہیں لال حویلی کے خلاف تمام کاروائی قانون کے مطابق کی گئی ہے شیخ رشید احمد ہمارے لئے قابل احترام ہے ان کے پاس اپیل کا حق ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لال حویلی کا معاملہ 1991 سے متروکہ وقف املاک کے ساتھ چل رہا ہے انہوں نے کہا کہ لال حویلی کا ڈی 158 یونٹ پوری لال حویلی کو ظاہر کرتا ہے شیخ رشید اور شیخ صدیق نے جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ ناقابل قبول اور غیر تسلی بخش ہیں ادھر شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق ایڈووکیٹ کے مطابق شیخ رشید کی غیر قانونی گرفتاری کے بعد لال حویلی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا لال حویلی کے خلاف آپریشن کے حوالے سے ہمیں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی حالانکہ ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے شیخ صدیق کی درخواست پرمتروکہ وقف املاک کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں انہوں نے کہا کہ شیخ رشید احمد کے بھائی شیخ صدیق نے 1987 میں لال حویلی خریدی تھی تاہم موجودہ انتقامی کاروائی کے دوران لال حویلی کو سیل کیا گیاجبکہ شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ راشدنے اپنے سوشل میڈیا پراپنے ویڈیوپیغام میں کہا کہ لال حویلی کی رجسٹری 1988 میں شیخ صدیق کے نام منتقل ہوئی لال حویلی کے حوالے سے تمام ریکارڈ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے پاس موجود ہے ہم نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں اپنا جواب جمع کروا رکھا ہے ہمارے وکیل کے دلائل مکمل نہیں ہوئے متروکہ وقف املاک نے یک طرفہ فیصلہ کر دیاانہوں نے کہا کہ آپریشن کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے ہمیں انصاف کی امید ہے آج ظلم کی اندھیری رات ہے مجھے بھی گرفتار کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔

Comments are closed.