کراچی (آن لائن) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کر رہے ہیں ، ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہو چکا ، قلیل وقت میں میکرو اکنا مک استحکام حاصل کیا، آئی ایم ا یف پروگرام یقینی طور پر آخری بنانے کے لئے اسٹریکچرل ریفارمز اشد ضروری ہیں ، ملک کے ہر شعبے کو ٹیکس دینا ہو گا ۔ پری بجٹ سیمینارسے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ دورہ امریکہ میں بہت سی کمپنیوں سے ملاقاتیں کی ہیں ۔ مختلف ممالک کے ہم منصب وزرا سے باہمی امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے ۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کر رہے ہیں ۔ امریکہ میں معاشی کے حوالے سے بہت مفصل گفتگو ہوئی اکثر پارٹنر نے موجودہ معاشی پا لیسی کو جاری رکھنے کی حمائت کی ۔ انہوں نے کہا پاکستان معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو چکا ۔ میکرو اکنامک استحکام کم عر صے میں آیا ہے ۔ ہمارا کرنٹ خسارہ کم ہوا ہے ۔ پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی ہے ۔ پالیسی ریٹ میں ایک ہزار بیسز پوائینٹس کم ہو چکے ۔
بہت سال کے بعد پورا سالکرنٹ اکاونٹ سر پلس ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریکچرل ریفارمز کریں گے تو یہ اآئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو گا ۔ انہوں نے کہا ہمارے شراکت دار ہماری ترقی سے خوش ہیں ۔ سعودی عرب ، چین ، یو اے ای اور دیگر دوست ممالک ہمیں معاشی استحکام میں بھر پور سپورٹ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر شعبے کو ٹیکس دینا ہو گا ۔ کسی شعبے کو ٹیکس سے استثنی دینے کی گنجائش نہیں ہے ۔ آٹھ سے نو فیصد ٹیکس سے معاملات نہیں چل سکتے ۔ ہمیں جی ڈی پی کے تمام سیکٹرز کو بھی ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا ہو گا ۔ تنخوا ہ دار طبقے کی ٹیکس مشکلات کم کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ٹیکس دہندگان کے لئے نظام آسان سے آسان بنانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا انرجی سیکٹر میں بہتری کے لئے دن رات کو ششیں ہو رہی ہیں ۔ یورپ کے ساتھ فضائی سروس بحال ہو گئی ہے۔ مختلف محکموں میں آوٹ سورسنگ کا عمل بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہا ریکوڈیک منصوبے پر پیشرفت کا آغا ز ہو چکا اس کے لئے ہمں فنڈنگ کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ہم اپنی برآمدات کو بھی بڑھانے پر بھر پور توجہ مرکو ز رکھے ہوے ہیں ۔ دودھ کی ایکسپورٹ کا بھی آغاز ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا ڈیجیٹل انویسٹمنٹ کانفرنس میں بیرونی سرمایہ کاروں نے آئی ٹی کے شعبے میں سات سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے کمٹمنٹس کی ہیں ۔
Comments are closed.