اسلام آباد(آن لائن)جمعیت علماء اسلام ( جے یوآئی) کے سربراہ مولانا مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی کیونکہ یہ واحد حکومت ہے جو پاکستان کی ہمدرد ہے‘ علمائے کرام کو شہید کرنے والوں کو کسی طور پر مجاہد نہیں کہہ سکتا ۔جمعرات کے روز اسلام آباد میں یکجہتی فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ یہ بہت ضروری تھا کہ مولانا حامد الحق شہید اور مولانا سمیع الحق شہید کی یاد میں اس اجتماع کا انعقاد ہوا۔انہوں نے کہاکہ ہمارا تعلق اس سلسلے کے ساتھ ہے جہاں رحلتوں اور شہادتوں پر ماتم پربا نہیں کئے جاتے بلکہ ان کے مشن کو زندہ رکھنے اور آگے بڑھانے کا عزم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج کا اجتماع بھی ہمیں یہی درس دے رہا ہے کہ ہم اپنے اکابرین کے مشن کو زندہ رکھیں اور آگے بڑھائیں ‘ ہم تحریک ہیں اور تحریک سمند ر میں کوئی بہت بڑا پتھر پھینک کربھونچال کا نام نہیں بلکہ سمند ر میں موجود لہروں کا نام ہے اوربالا خر ساحل پر جاکر دم لیتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری یہ دانش گاہیں اور تعلیم گاہیں نظریاتی اور فکری ادارے ہیں اوریہ ادارے اپنے علم اور عمل سے امت کی رہنمائی کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ انگریزوں کے خلاف ڈیڈھ سو سال تک جنگ لڑی گئی اور 50ہزار سے زائد علمائے کرام کو سولیوں پر لٹکایا گیا اور کوئی بھی اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا‘ہماری تاریخ قربانیوں سے بھری ہے اور ہم نسبت کے لوگ ہیں جن کی یہ نسبت اورتعلیم وتربیت ہو تو آج کے حکمرانوں کی روش کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ یہی جو آج کے حکمران ہیں یہ اس وقت بھی انگریزوں کے وفادار تھے اور یہی جو آج میدان میں بڑے عزم کے ساتھ بات کرتے ہیں یہی اس وقت بھی میدان جہاد میں ہیں ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کہ کن وفاداریوں کے نتیجے میں انہیں ملک اور حکومتیں ملی ہیں اور ہمارے حکمران آج بھی ان کا حق نمک ادا کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطنت عثمانیہ کے ٹوٹ جانے کے بعد جغرافیائی تقسیم نے ہمارے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور منقسم جسم اپنا دفاع نہیں کرسکتا ہے
انہوں نے کہاکہ اس وقت ہم ہمہ جہت مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں ایک جانب افغانستان میں 20سال سے امریکہ کے خلاف جنگ رہی جو فتح سے ہمکنار ہوئی لیکن ابھی وہ مشکل برقرار ہے کہ فلسطین کو موضوع سامنے آگیا اور دنیا اس طرف متوجہ ہوئی اور حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا جس طرح افغانستان کے طالبان کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا اور دیا ہچکچا رہی ہے کہ حماس کی حمایت کیسے کی جائے انہوں نے کہاکہ 7اکتوبر کو جنگ شروع ہوئی اور 14اکتوبر کو پشاؤر میں لین مارچ تھا جس میں حماس کے نمائندے نے شرکت کی اس کے بعد میں نے دوہا جاکر حماس کے نمائندوں سے ملاقات کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ جس کو تم لوگ دہشت گرد کہتے ہو ہم اس کو جہاد کہتے ہیں انہوں نے کہاکہ امریکی وزیر خارجہ تل ابیب میں امریکی کے طور پر نہیں بلکہ ایک یہودی کے طور پر گیا تھا اور میں بھی وہاں پر ایک مسلم مجاہد کے طور پر گیا تھا انہوں نے کہا کہ اگر ایمان کو بچانا ہے تو پھر سیاسی اور گروہی مصلحتیں ختم ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد اسماعیل حانیہ کی شہادت پر گئے اور تمام سیاسی جماعتیں ایک جگہ بیٹھ کر جو آواز بلند کر رہے ہیں یہ پوری امت مسلمہ کی متفقہ آواز ہے انہوں نے کہاکہ ایسے حالات میں ہمیشہ دنیا کی توقع پاکستان سے ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ مشکلات ہوتی ہیں لیکن ہمیں صرف اس بات پر افسوس نہیں ہونا چاہیے کہ 50ہزار مسلمان شہید ہوئے ہیں یہ کرب کا باعث ہے لیکن جب دنیا اسرائیل کو تسلیم کرنے پر غور کر رہی تھی اور ہمارے ملک میں لابی کام کررہی تھی مگر ہمارے اقدامات سے پاکستان میں موجود لابی کا دھچکا لگا اسی طرح حماس کی جانب سے 7اکتوبر کے اقدامات نے اس بات کو ختم کردیا ہے انہوں نے کہاکہ ایک فلسطین کی بات کرنے والے کے موقف کو بھی دیکھنا چاہیے اسی طرح اسرائیل بھی کہتا ہے کہ ایک اسرائیل کوئی فلسطین نہیں تو اس صورت میں ہم کون ہوتے ہیں کہ دو ریاستی حل کی بات کرتے ہیں ہم بھی ڈٹ کر کہتے ہیں کہ ایک فلسطین ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ ایک صدی قبل سرزمین عرب بلکہ کرہ عرض پر اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہیں تھی انہوں نے کہاکہ یہودیوں کو بسانے کی زمہ داری فلسطین پر عائد نہیں ہوتی ہے اور جبراً ان کو فلسطین میں کیوں آباد کیا گیا انہوں نے کہاکہ آج پراپیگنڈہ کیا جارہاہے کہ یہ تو فسلطینوں نے خود ہی زمینیں بیچی ہیں 1917میں صرف 2فیصد علاقے پر یہودی آباد تھے جبکہ 98فیصد فلسطینی آباد تھے انہوں نے کہاکہ تاریخ اور اعداد وشمار کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ 1967کے بعد اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے یہ ناجائز قبضہ ہے انہوں نے کہاکہ آج اسرائیل جنگی مجرم ہے ان کو گرفتار کیا جائے انہوں نے کہاکہ نہ تو اقوام متحدہ کو سنا جارہا ہے اور نہ ہی عالمی عدالت انصاف کو سنا جارہا ہے عالمی اداروں کو امریکہ اور مغربی ممالک نے غیر موثر بنایا ہے یہ عالمی ادارے کیوں مردہ ہوگئے ہیں انہوں نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ ہے
ہمیں کشمیر کے مسئلے سے پہلے افغانستان کے بارے میں سوچنا ہوگا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کیوں بہتر نہیں کئے انہوں نے کہاکہ ظاہر شاہ سے لیکر کرزئی تک تمام افغانی حکومتیں انڈیا کے ساتھ تھی مگر یہ واحد حکومت ہے جو پاکستان کی حامی ہے مگر ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور ہم ان کو کس جانب دھکیل رہے ہیں آج مغربی سرحد پر مسائل ہیں ہزاروں ٹرک پھنسے ہیں انہوں نے کہاکہ اگر ہم اپنا ملکی مفاد جانتے تو آج اس کو پاکستان کا وفادار ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ دونوں اطراف کے عوام کو مسائل درپیش ہیں یہ وہ غلط پالیسیاں ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ریاستیں قوتیں سفارتی ذہن کے ساتھ غلام ہیں یا پھر ان کی سفارتی ذہینت صفر ہے میں نے کمیٹی میں کہاکہ اگر ہر مسئلہ کو فوج کی سوچ سے حل کیا جائے تو کبھی بھی درست نہیں ہوگا جب تک اس کے ساتھ سیاسی سوچ نہ ہو انہوں نے کہاکہ آج تمام ممالک کی معیشت اوپر جارہی ہے مگر صرف پاکستان کی معیشت نیچے جارہی ہے ہم ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہورہے ہیں انہوں نے کہا آج بھی اپنے فوج کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس وقت موجودہ صورتحال میں آپ کی پشت پر طاقتور سیاسی قوت نہیں ہے آپ کو بھی سیاسی قوت اور عوام کی پشت پناہی کی ضرورت ہے زبانی بیانات جاری کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ آج جب انڈیا نے چھیڑا ہے تو ایک ایک پاکستانی وفادار ہے ہمیں تجزیہ کرنا چاہیے لوگ بے وقوف نہیں ہیں اگر انڈیا کے ساتھ مقابلہ ہوگا تو قوم ایک صف پر ہوگی مگر افغانستان کے ساتھ مقابلہ ہوگا تو قوم ایک صف پر نہیں ہوگی اس کو دیکھیں انہوں نے کہاکہ کچھ زرا سوچ سمجھ کر موقف اختیار کریں پراپیگنڈہ سے کوچ نہیں ہوگا اور میڈیا کے زریعے فضاء بنانے سے کوئی بھی مرعوب نہیں ہوگا ہم سب سمجھتے ہیں اور معاملات تک رسائی ہماری آپ سے بہتر ہے آپ کو قوم کے سااتھ بیٹھنا ہوگا تب جاکر ہم وہ ملک حاصل کرسکتے ہیں جس کیلئے مولانا سمیع الحق نے بھی جان دی ہے انہوں نے کہاکہ ہم سب پر خود کش حملے ہوئے ہیں مگر یہ اپنی ہمت ہے کہ ہم جیئے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ کتنے علماء شہید ہوئے ہیں یہ کس جرم میں ان کا خیال ہے کہ ہم علماء کو بھی قتل کریں گے اور پھر ہم مجاہد بھی کہلائیں گے میرا موقف واضح ہے کہ جس عالم دین کو میں نے شہید کہنا ہے اس کے قاتل کو میں مجاہد نہیں کہہ سکتا ہوں یہ دہشت گرد،سفاک اور قاتل ہے میں مولانا سمیع الحق،مولانا حامد الحق اور مولانا نور محمداور مولانا حسن جان اور مولانا معراج الدین کے قاتلوں کو مجاہد نہیں مانتا ہوں انہوں نے کہاکہ مجاہدوں کی طرح آو کہ بات کریں انسانی خون کو حلال کرنے کا فتویٰ 5افراد نہیں دے سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ انہوں نے کتنا اسان بنا دیا ہے کہ جب چاہے کسی کو قتل کردیں اور پھر اس کو جہاد بھی کہیں انہوں نے کہاکہ دارلعلوم حقانیہ میں 8سال پڑھنے کا شرف حاصل ہے اور آج جو کچھ ہوں اس کی برکت سے ہوں۔۔۔۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.