اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم نے کہاکہ شاہینوں نے خود کو جنوبی ایشیا کا تھانیدارسمجھنے والے دشمن کے 6 طیارے گرادیے، دشمن کو بزدلانہ حملے کے جواب میں ایسا ڈراوٴنہ خواب دکھایاجو وہ تاقیامت یاد رکھے گا، پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ عالمی تحقیقات کو غرورو تکبرمیں مسترد کردیا، بھارت نے پیش کش کا بزدلانہ جارحیت سے جواب دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ پٹھان کوٹ ادھم پور سمیت ہرمقام کو نشانہ بنایااسے کہیں چھپنے کی جگہ نہ ملی۔یوم تشکر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس محفل میں ہمارے انتہائی قابل احترام صحافی و ملک کے مایہ ناز فنکار موجود ہیں، یہاں پر پاکستان کے انتہائی قابل احترام غازی بھی موجود ہیں، آج کا دن یوم تشکر ہے، یہ دن دنیا کی تاریخ میں کسی، کسی کو ملتا ہے اور صدیوں بعد ملتا ہے۔انہوں نے کہاکہ دشمن نے بزدلانہ حملے میں معصوم شہریوں اور بچوں کونشانہ بنایا۔ آرمی چیف نے کہا کہ اجازت دیں تو دشمن کو ایسا تھپر رسید کردیں پوری دنیا دیکھے۔ پاکستان فضائیہ نے جو ٹیکنالوجی استعمال کی اس نے پوری دنیا کے ہوش اڑا دیے۔ ایئر چیف نے تحقیق کے بعد تصدیق کی بھارت کے 5 نہیں 6 طیارے گرائے۔ پاکستان نے خطے کو امن کو ترجیح دی۔ بھارت نے امن کی خواہش کو پاکستان کی کمزوری سمجھا۔۔
وزیراعظم نے سعودی عرب، چین ، قطر ،دبئی ، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کاشکریہ اداکیا۔ دوست ممالک نے کشیدہ صورتحال میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے امریکی صدرترمپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ شہباز شریف نے کہا ٹرمپ کی کوششوں سے خطے میں دوبارہ امن قائم ہوسکا۔ دشمن کو بزدلانہ حملے کا جواب دیدیا پھر سیز فائر کی درخواست قبول کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج سے 50 سال پہلے ایک دلخراش واقعہ پیش آیا تھا 1971 میں اور آج 2025 میں قوم کی دن رات کی دعاوٴں سے، کروڑوں پاکستانی افواج پاکستان کے دعائیں مانگ رہے تھے اور آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھا کر اس رب ذولجلال جس کے قبضے میں ہماری جان ہے، دعائیں کررہے تھے کہ پاک فوج کو ایسی کامیابی عطا فرما کہ دشمن دوبارہ کبھی قیامت تک پاکستان کی طرف نگاہ اٹھا کے نہ دیکھ سکے۔انہوں ں ے کہا کہ 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب کو میری سپاہ سالاروں سے ملاقات میں طے پایا کہ دشمن نے آخری حد پار کردی، ہماری انتہائی مخلصانہ پیشکش کو حقارت سے ٹھکرایا، ہم نے دشمن کو پیشکش کی تھی کہ پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، مگر دشمن نے تحکمانہ انداز میں ہماری ا?فر ٹھکرائی اور پاکستان پر حملہ کردیا اور بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا، جن میں 6 سالہ بچہ بھی شہید ہوا، مائیں، بہنیں، بزرگ شہید ہوئے اور دشمن نے پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستان کے اندر جاکر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے دشمن کے 6 جہاز گرائے، 6 جہاز گرانا اس دشمن کے جو جنوبی ایشیا میں خود کو تھانیدار سمجھتا تھا، جو اس غرور میں تھا کہ پاکستان اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اسی پاکستان کے شاہینوں نے جھپٹ جھپٹ کر ان کے رافیل بھی گرائے، مگ اور رافیل بھی گرائے، اور ایسا ڈراوٴنا خواب دکھایا کہ قیامت وہ اس خواب سے نکل نہیں سکیں گے، مگر اس کے باوجود بھی دشمن دھمکیاں رہا، اور پھر 9 مئی کی رات کو ہم نے فیصلہ کیا ہم جواب دیں گے۔
ان کا کہنا تھا اس کے بعد جنرل عاصم منیرنے مجھ سے کہا کہ اجازت دیں کہ دشمن کے منہ پر ہم ایسا تھپڑ رسید کریں گے کہ وہ عمر بھر یاد رکھے گا، اور پھر آپ نے دیکھا کہ کس طرح پٹھان کوٹ، ادھم پور اور دوسرے مقامات پر ہمارے شاہینوں اور الفتح میزائلوں نے حملے کیے، دشمن کو سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر کا پھر مجھے فون آیا اور کہا کہ ہم نے دشمن کو بھرپور جواب دیا ہے اور اب دشمن نے ہمیں سیز فائر کرنے کی درخواست کردی ہے، میں نے کہا کہ اس سے بڑی عزت کی کیا بات ہوسکتی ہے کہ آپ نے دشمن کو سیزفائر پر مجبور کردیا ہے، میں نے کہا کہ آف سیزفائر کی پیشکش کو قبول کرلیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے ایئرچیف اور ان کے شاہینوں نے جس طرح ملک میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو چینی طیاروں کے ساتھ استعمال کیا، اس سے دنیا کے ہوش اڑگئے اور دوستوں کا اعتماد آسمان سے باتیں کرنے لگا، امریکا سے لے کر جاپان تک ہر جگہ آج یہ بات ہورہی ہے کہ پاکستان کی افواج نے کس طرح خاموشی سے یہ صلاحیت کرلی۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کو دن رات یہ باور کروا رہا تھا کہ اس کی اکانومی کھربوں ڈالرز میں ہے، اس نے اسلحہ پر کئی ارب ڈالرز پانی کی طرح خرچ کیے ہیں، بھارت چاہتا کہ اسے خطے کا بادشاہ تسلیم کیا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا اور پاکستانی قوم کی دعاوٴں سے پاکستان کو عظیم فتح دی ہے،جس کے لیے ہم آج یوم تشکر اس طرح منارہے ہیں کہ پوری قوم کے سر رب ذوالجلال کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی، آج پوری قوم یک جان دو قالب ہے اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ آج وقت آگیاہے کہ اس سفر کا آغاز کردیں جس کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا، قائداعظم کی عظیم تحریک میں لاکھوں مسلمانوں نے جان کا نظرانہ پیش کیا تھا جس کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔انہوں نے کہا کہ جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا وہ یہ تھا کہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم کو دنیا میں بہت اونچا اڑنا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ ماضی میں جائے بغیر ہم نے آگے بڑھنا ہے، اور آج جو قومی یکجہتی اور وحدت اور اخوت ہے، اس کو ہم سرمایہ حیات سمجھ کر چل پڑیں تو یقین کریں نہ صرف ماضی کے نقصان کا ازالہ ہوگا بلکہ بہت جلد پاکستان اقوام عالم میں اپنا جائز مقام حاصل کرلے گا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا، اگر ہم نے خطے میں مستقل امن قائم کرنا ہے تو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا، مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد ہی ہم تجارت پر بات کرسکتے ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد ہم مل کر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بھی کام کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانیوں نے جان کی قربانی دی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں 150ارب ڈالر کانقصان اٹھانا پڑا۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی اور ملک نے اتنی قربانیاں نہیں دیں۔
ان کا کہنا تھاکہ چاہے ہم اس بات کو پسند کریں یا نہ کریں مگر ہم ہمسائے ہیں اور ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ہمسایہ ہی رہنا ہے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم پرامن ہمسائے بن کر رہیں یا لڑتے رہیں، پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، کیونکہ ہمارے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں مگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ جنگوں کی وجہ سے غربت اور بیروزگاری بڑھی اور دیگر مشکلات میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ جنگوں سے سبق یہ ملا ہے کہ ہم پرامن ہمسایوں کی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل حل کریں، کیونکہ اگر مستقل امن چاہتے ہیں تو پھر مسائل کو مستقل طور پر حل کرنا ہوگا، جموں و کشمیر اور پانی کی تقسیم کے مسائل حل ہوجائیں تو پھر اس کے بعد ہم تجارت پر بات کرسکتے ہیں، اور انسداد دہشت گردی کے میدان میں بھی تعاون کرسکتے ہیں۔قبل ازیں معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں شاندار فتح پر یوم تشکر کی خصوصی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد شہدائے وطن کے درجات کی بلندی، وطن عزیز کی ترقی،سلامتی اوراستحکام کیلئے دعا کی گئی۔خصوصی تقریب میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد ترانے اور ملی نغمے پیش کیے گئے۔تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم تھے جبکہ وفاقی وزرا ، اراکین کابینہ چیئرمین جے سی ایس سی، سروسز چیفس، مختلف ممالک کے سفارتکار، سول اور عسکری حکام نیبھی تقریب میں شرکت کی۔
Comments are closed.