ساری دنیا جانتی ہے بھارت خطے میں سب سے بڑا دہشت گردی کا سرپرست ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد ( آن لائن )ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ بھارت خطے میں سب سے بڑا دہشت گردی کا سرپرست ہے، 6 اور 7 مئی کی شب کی فضائی جنگ پوری دنیا نے دیکھی، پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور تکنیکی برتری رہی، یہ دہائیوں تک فضائی جنگی کالجوں اور فوجی اداروں میں پڑھائی جائے گی، پاکستان نے اپنی افواج کی مکمل طاقت ابھی تک استعمال ہی نہیں کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ کہتے ہیں یہ جنگ ہماری ہے مگر فتح اللہ تعالیٰ کی ہے، پاکستان کی گلیوں اور شہروں میں جائیں تو عوام کے چہروں پر جواب موجود ہے، خوشی اور جشن جو وہ منا رہے ہیں کیونکہ یہ صرف عسکری میدان کی بات نہیں، نہ ہی فضائی یا زمینی لڑائی کی، معرکہ حق ایک سچائی کی جنگ ہے، پاکستان نے جھوٹ، فریب، جبر اور بھارتی جارحیت کا پردہ چاک کیا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت ایک من گھڑت کہانی لے کر آیا، پاکستان نے صرف ایک بات کہی، اگر کسی شہری یا ریاست سے تعلق کا ثبوت ہے تو سامنے لائیں، ثبوت بھی بین الاقوامی برادری یا کسی تیسرے قابلِ اعتماد فریق کے سامنے تاکہ شفاف تحقیقات ہو سکیں، بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور نہ آج تک ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 6 اور7 تاریخ کو جو انہوں نے کیا، اس پر بھی ان کے پاس اخلاقی جواز نہیں، ہم شفاف رہے

، سچ بولا اور جھوٹ نہیں بولا، باتوں کو توڑا مروڑا نہیں، دنیا نے دیکھا بھارت کا میڈیا اور ریاست خود معلومات کی جنگ میں جھوٹ بول رہے تھے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے پاس بہت ترقی یافتہ تھیٹر اور فلم انڈسٹری ہے، اسی لیے وہ نت نئے بیانیے گھڑتے رہتے ہیں، کل ہی میں سنا کہ بھارت کہہ رہا تھا پاکستان نے گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا، اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں ہو سکتا، ہم سکھوں کے مقدس مقامات ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب سمیت مذہبی مقامات کی حفاظت کرتے ہیں، کرتار پور صاحب کا احترام کرتے ہیں، ہم اپنے سکھ بھائیوں سے محبت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پنجاب میں مشترکہ ثقافت، زبان اور قربت ہے، پاکستان کے مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان گہرے تعلقات ہیں، ہم گولڈن ٹیمپل جیسے مقدس مقام پر کیوں حملہ کریں گے؟ یہ ہمارے کلچر، اقدار اور مذہب کے خلاف ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وہ اپنے اعلیٰ افسران اور جرنیلوں کو میڈیا پر جھوٹ بولنے کے لیے لاتے ہیں، آپ بھارتیوں کی باتوں پر کیسے یقین کریں؟ انہیں پہلے خود اپنا اعتبار بحال کرنا ہوگا، اعتبار سچ بولنے سے آتا ہے، اعتبار ہزاروں ویب سائٹس بند کرنے اور میڈیا پر پابندی لگانے سے نہیں آتا، حکومت پر تنقید کرنے والوں کو جیل میں ڈالنے سے نہیں آتا، کیا پاکستان نے اس تنازع میں کسی صحافی کو جیل میں ڈالا؟ بالکل بھی نہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہمیں اپنی فضائیہ اور پائلٹس پر فخر ہے، اس فوجی تنازع میں آپ نے تینوں افواج کی ہم آہنگی دیکھی،

صرف آرمی، ایئرفورس، اور نیوی کے درمیان نہیں بلکہ سیاسی قیادت اور عوام کے ساتھ بھی ایک مضبوط ا?ہنگی دیکھنے کو ملی، یہ آہنی دیوار”بنیان المرصوص‘’ بھارتی جارحیت کے خلاف متحدہ مزاحمت تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایئرفورس ہمارا فخرہے، 6 اور 7 تاریخ کی شب کی فضائی جنگ پوری دنیا نے دیکھی، یہ دہائیوں تک فضائی جنگی کالجوں اور فوجی اداروں میں پڑھائی جائے گی، ہم اپنے پائلٹس کی پیشہ ورانہ مہارت کوسلام پیش کرتے ہیں، جے ایف-17 تھنڈر، جے-10 سی، فتح-1 اور فتح-2 میزائل یہ سب پاکستان کی تکنیکی ترقی کی مثالیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنی روایتی افواج کی مکمل طاقت ابھی تک استعمال ہی نہیں کی، اس کا بڑا حصہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف مصروف ہے، دنیا جانتی ہے کہ بھارت اس خطے میں سب سے بڑا دہشت گردی کا سرپرست ہے، ہم نے ان آپریشنز سے ایک بھی فوجی نہیں ہٹایا، ہم نے اپنی تمام ٹیکنالوجی بھی ظاہر نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے اشرافیہ مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف ظلم پر یقین رکھتے ہیں، یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ صرف مسلمانوں پر ہی نہیں، بلکہ عیسائیوں، سکھوں اور نچلی ذاتوں پر بھی ظلم ہوتا ہے۔ اس ظلم سے قدرتی طور پر ردعمل پیدا ہوتا ہے

، جسے بھارت حل کرنے سے انکار کرتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آرکے مطابق انتہا پسندی اور ہندوتوا نظریہ کے فطری نتائج ہوتے ہیں، لیکن بھارت اس کا الزام پاکستان پر ڈال کر بیرونی مسئلہ بناتا ہے۔ جب تک بھارت ان اندرونی مسائل کو خود حل نہیں کرتا، امن ممکن نہیں۔انہوں نے کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک حل طلب بین الاقوامی مسئلہ ہے، جس میں پاکستان، چین، اور بھارت شامل ہیں۔ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو ظلم کے ذریعے اندرونی معاملہ بنانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن امن اس راستے ممکن نہیں۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ صرف کوئی پاگل ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا پانی بند کر سکتا ہے، اس لیے کہ یہ ممکن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ کشمیر سے چھ دریا نکلتے ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔ اگر کل کو کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق کشمیر پاکستان میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ تمام دریا پاکستان کے ہوں گے اور بھارت ایک lower riparian state بن جائے گا اور پھر یہ ہمارے اوپر ہو گا کہ اس کو کیسے دیکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین بھی اس تنازع میں ایک فریق ہے جس کا کشمیر کے کچھ حصوں پر دعویٰ ہے۔ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ وہ کس آگ سے کھیل رہا ہے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کئی دہائیوں سے مختلف شعبوں میں شراکت دار ہیں۔ پاکستان، چین، اور دیگر ذمہ دار اقوام امن کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح پاکستان نے اپنی جنگ خود لڑی۔ اگر بھارت میں خودداری ہے، تو وہ بھی اپنی جنگ خود لڑے۔انہوں نے کہا کہ بھارتیوں کو بھی خود داری سیکھنی چاہیے، اور جھوٹ اور جارحیت پر انحصار بند کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب بھارت نے کھلم کھلا جارحیت کی، ہم ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور آج بھی کھڑے ہیں۔ اگر بھارت نے دوبارہ ایسی حرکت کی، تو ہمارا ردعمل اس سے بھی زیادہ تیز اور شدید ہوگا۔

Comments are closed.