پاکستان ، ترکیہ اور آذ ر با ئیجان کا سہ فریقی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق

لاچین (آن لائن) پاکستان ، ترکیہ اور آذ ر با ئیجان نے سہ فریقی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق کیا ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں دوست ممالک کو پا کستان کے لئے باعث فخر قرا ر دیتے ہوے کہا حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں ان کی طرف سے حمائت پر مشکور ہوں ۔ ہم امن کے خواہاں ہیں ۔ بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات کی میز پر حل کر نا چاہتے ہیں ۔ پانی چوبیس کروڑ عوام کی لائف لائن ہے جو حریف ملک روک نہیں سکتا ، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ۔ آذر بائیجان نے پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر نے کا بھی اعلان کیا ۔ لاچین میں ہونیوالے سہ فر یقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوے شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر اور عوام کو یوم آزادی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہوے کہا صدر طیبب اردوان نے جس انداز سے پی کے کے کا مسئلہ حل کیا وہ قابل ستائش ہے ۔ آ ذر بائیجان نے لڑ کر آزادی حاصل کر کے دنیا کی قوموں میں اپنا مقام بنایا ۔

کرد ستان پارٹی کا تحلیل ہونا ترک صدر کی سیاسی بصیرت اور وثرن کا مظہر ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان ترکیے اور آزر بائیجان گہرے ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہیں۔ بہترین میزبانی پر صدر علیوف کا شکر گزار ہوں ۔ بہترین دوستوں کے ہمراہ اس ہال میں موجود ہونے پر بیحد خوشی ہے ۔ آج کا یہ اجلاس اس عزم کا اعادہ ہے کہ ہم دوستی کو نئی بلندیوں کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہمارے دشمن ملک بھارت نے پہلگام واقعہ پر پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزام لگائے اور ان الزامات کی آڑ میں پاکستان کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کیا ۔ افواج پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ۔ انکا کردار اس جنگ میں مثالی تھا ۔ انہوں نے کہا بھارت نے پہلگام واقعے کے کوئی ثبوت نہیں دئیے ۔ ہم نے بھارت کو پہلگام واقعے کی غیر جا نبدرانہ رانہ تحقیقا ت کی پیشکش کی جو اس نے مسترد کر دی ۔ انہوں نے کشیدگی کے دوران ترکیہ اور آذربائیجان کی جانب سے بھر پور حمائت پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس ترکیہ اور آذر بائیجان جیسے دوست ممالک ہیں ۔ انہوں نے کہا کشمیر ، قبرص اور کاراباخ کے معاملے پر تینوں ممالک یکساں موقف رکھتے ہیں ۔ جو تینوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی مضبوطی کا عکاس ہے ۔ انہوں نے کہا پانی چوبیس کروڑ عوام کی لائف لائن ہے ۔ بھارت یہ پانی روکنا چا ہتا ہے جو کبھی روک نہیں پائے گا ۔ بھارت کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا ہم امن کے خواہاں بھارت کے ساتھ تمام مسائل مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے حامی ہیں۔

مسئلہ کشمیر کا حل سلامتی کونسل کی قرار داوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے ۔ اس موقع پر ترک صدر الہام علیوف نے خطاب کرتے ہوے کہا آذر بائیجان پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا ۔ سرمایہ کاری کے مواقعوں کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاع سمیت دیگر ش شعبوں میں تعاون کے فروغ کے خواہاں ہیں ۔ انہوں نے کہا پاکستان آذر بائیجان اور ترکیہ مشترکہ اہداف کے لئے مل کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ تر کیہ اور پاکستان کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں بھی کام کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا دوہززار بیس میں ہونیوالی جندگ میں ترکیہ اور پاکستان نے ہماری بھرپور مدد کی ۔ انہوں نے کہا پاک بھارت کشیدگی کے دوران ہمیں گہری تشویش تھی دونوں ممالک کے درمیان جنگبندی خوش آئند ہے ۔ تر کیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنے خطاب میں کہا تر کیہ اور پاکستان اور آذربائیجان کا یہ دوسرا سہ فریقی اجلا س ہے ۔

جوکہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ تینوں ملکوں کے تعلقات باہمی احترام اوراعتما د پر مبنی ہیں ۔ یقین ہے کہ آذر بائیجان کے آزاد ہونے والے علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا ۔ تینوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں #۔ انہوں نے کہا کہ آہنی برادر شہباز شریف کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنر شپ پر بات ہوئی ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگبندی اطمینان بخش ہے۔ ا مید ہے پاک بھارت جنگبندی مستقل رہے گی ۔ پاک بھارت کشیدگی میں وزیر اعظم شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت متاثر کن تھی ۔ انہوں نے کہا ہمارا خطہ سٹریٹجک اعتبار سے بہت اہم ہے ہم امن کے حامی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹیشن کے شعبے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔

Comments are closed.