معرکہ حق میں پاکستان حق پر تھا ،فتح پوری دنیا دیکھ رہی ہے، عطا اللہ تارڑ

لاچین ( آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشر یات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں پاکستان حق پر تھا ، مودی ایک شکست خوردہ وزیر اعظم ہے ۔ پاکستان کی فتح پوری دنیا دیکھ رہی ہے ، یو م تکبیر ہماری فتح کا ضامن ہے ۔ وزیر اعظم کے دوست ممالک کے دوروں کے اچھے اثرات سامنے آ رہے ہیں ۔ لاچین میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا آ ذر با ئیجان ، ترکیہ اور پاکستان کی قیادت متحد ہے ۔ وزیراعظم کے دوست ممالک کے دوروں کے اچھے اثرات سامنے آ رہے ہیں ۔ ہماری مشرقی ہمسایہ اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ معرکہ حق میں ہم حق پر تھی ۔ اس معرکہ میں شاندار کامیابی نصیب ہوئی ۔ ہماری فتح کو دنیا دیکھ رہی ہے ۔ آذربا ئیجان کے عوام نے بھی ہماری بھرپور حمائت کی اور ہماری فتح پر جشن منایا ۔ بہت سے دوست ممالک کو ہماری اس کامیابی پر خوشی ہوئی ۔ انہوں نے کہا نریندر مودی ایک شکست خوردہ وزیر اعظم ہے وہ اس لئے اشتعال انگیز بیانات دے کر اپنی خفت مٹانے کی کو شش کر رہا ہے ۔

انہوں نے کہا آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں اس وقت جشن کا سماں ہے یہاں لوگ جہاں یوم آزادی کا جشن منا رہے ہیں وئیں پاکستان مین یوم تکبیر کا جشن منایا جا رہا ہے ، دونوں ممالک کے عوام بھی اس کوشی کے موقع پر ایک دوسرے کو یاد رکھے ہوے ہیں ۔ یہاں کے لوگوں کے دلوں میں پاکستان کے لیے خاص جذبہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دور میں پاکستان کے بیرونی تعلقات میں واضح بہتری آئی ہے اور دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان میں موجود پاکستانی کمیونٹی اور مقامی عوام نے یومِ تکبیر کو جس انداز سے منایا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی کامیابیاں نہ صرف ملک میں بلکہ بیرونِ ملک بھی باعثِ فخر سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کی ہر جارحیت کا جواب دیا جائے گا، پاکستان کے دشمنوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہم نہ صرف امن چاہتے ہیں بلکہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کی قیادت نے دو نوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے لئے اب وفود کی سطح پر بات چیت کے لئے ا تفاق کیا ہے ۔

Comments are closed.