”اسرائیلی جارحیت نے ناصرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کوسنگین خطرات میں ڈال دیا ہے“

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں اسرائیل کے ایران پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے جس میں سلامتی کونسل اور او آئی سی سے اسرائیلی جارحیت فوری رکوانے اور اس مقصد کیلئے اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں کہاگیا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی سخت الفاظ میں اسرائیل کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ناجائز اور غیر قانونی جارحیت کی مذمت کرتی ہے، جس سے ایرانی عوام کو جانی و مالی نقصانات پہنچے ہیں۔قرارداد کے متن میں کہاگیا ہے کہ یہ ایوان شدید افسوس کے ساتھ نوٹ کرتا ہے کہ 13 جون 2025 کی تاریک گھڑیوں میں کیے گئے حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے رکن ملک کی خودمختاری اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں

، بلکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔قراردادکے مطابق یہ ایوان خبردار کرتا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ایسی مسلسل جارحیت نے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کو سنگین خطرات میں ڈال دیا ہے، جن کے نتائج کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔ ایران کو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت خود دفاع کا حق حاصل ہے۔ قرارداد کے مطابق یہ ایوان دوہراتا ہے کہ پاکستان اسلامی ایران کی حکومت، پارلیمنٹ اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے اور اس حملے میں جانی نقصان اٹھانے والوں کے لیے دعا گو ہے۔قراردادکے مطابق یہ ایوان حکومت سے فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ ایران پر جارحیت کی مذمت کی جائے اور اسے فوری طور پر روکا جائے۔

Comments are closed.