سپریم کورٹ آئین کی پابند ہے‘ اگر کوئی فیصلہ غیر آئینی ہے تو عدالت اس کو واپس لے سکتی ہے‘جسٹس امین الدین خان
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں،ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے،یہ خود سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہے۔ جتنی باتیں آپ آج کر رہے وہ مرکزی کیس میں کرنی تھیں۔ مرکزی کیس میں آپ نے کہا نشستیں ان کو دے دو۔ 2018 کے اخبارات کا کارٹون یاد آیا، ایک رنگ میں 1 ریسلرز تھے۔ دو میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔یہ ساری چیزیں ہم نے یہاں وہاں سے دیکھیں۔ ہم نے ریکارڈ خود منگوایا اور کہا غلط ہوا۔ سپریم کورٹ میں 3 بینچز الیکشن مقدمات سن رہے تھے۔ 99 فیصد مقدمات کے فیصلے آپ کے حق میں ہوئے۔ کل آپ کہہ رہے تھے ہم الیکشن کے دوران عدالت نہیں آسکتے تھے۔میچور سیاسی جماعتیں غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرتیں ہیں۔ کل آپ نے کہا 12، 14 سال کے بچے گرفتار ہوتے تھے، آپ ٹافیاں دینے جاتے تھے۔ کسی بچے کا باپ کورٹ نہیں آیا، کوئی پریس کلپنگ نہیں دی گئی۔ اس قسم کا بیان ہمارے اور قوم کے لیے سرپرائز تھا۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 185 تھری کا ایک دائرہ اختیار ہے۔ اس کیس میں کم از کم پورے جج کو پتا تو ہوتا ہے کہ کون سا دائرہ اختیار ہے۔ موجودہ کیس میں تو بس فریقین اور عدالت کا معاملہ ہے۔ہم آپ کو شنوائی کا حق دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کچھ بھی کہتے جائیں۔ دیوار آپ نے کھڑی کی، آپ سنی اتحاد کونسل میں گئے اور وہ عدالت میں آئے۔
سپریم کورٹ آئین کی پابند ہے۔ اگر کوئی فیصلہ غیر آئینی ہے تو عدالت اس کو واپس لے سکتی ہے۔جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ کیا کوئی عدالت کسی امیدوار اور سیاسی جماعت کے چھوڑے گئے خلا کو پر کر سکتی ہے؟ اگر کسی کے ساتھ دھاندلی ہو اور وہ درخواست دائر کرنے میں غلطیاں کرے تو عدالت اس کو موقع دے سکتی ہے؟ کیا عدالت فریقین کی غلطیوں کو دْور کر سکتی ہے؟ آپ اگلے انتخابات کی تیاری کریں، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایسے ہی حالات رہے تو اگلے انتخابات بھی ایسے ہی ہوں گے۔سلمان اکرم راجانے یہ دلائل جمعرات کے روزدیے ہیں۔سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،کنول شوذب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عدالت کو 41 امیدواران کے پی ٹی آئی نہ لکھنے کہ وجہ بتانا چاہتا ہوں۔ الیکشن کمشنر پنجاب کا فیصلہ تھا کہ پی ٹی آئی والوں کے کاغذات منظور نہیں ہوں گے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں الیکشن کمیشن کا تو کام ہی نہیں۔ کاغذات نامزدگی پر فیصلہ آر اوز نے کرنا ہوتا ہے۔وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آر اوز کا بھی تاثر تھا کہ کاغذات منظور نہیں ہوں گے۔ ایک غیر یقینی کی صورتحال تھی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میچور سیاسی جماعتیں غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرتیں ہیں۔ کل آپ نے کہا 12، 14 سال کے بچے گرفتار ہوتے تھے، آپ ٹافیاں دینے جاتے تھے۔ کسی بچے کا باپ کورٹ نہیں آیا، کوئی پریس کلپنگ نہیں دی گئی۔ اس قسم کا بیان ہمارے اور قوم کے لیے سرپرائز تھا۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ قوم کے لیے تو یہ سرپرائز نہیں تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلی مرتبہ ہی اس طرح کی بات کی گئی، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں اس بیان پر معذرت چاہتا ہوں۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ غلط فیصلہ نظر ثانی کا کوئی گراونڈ نہیں ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نظر ثانی داخل کرنے والوں کے گراونڈز کیا ہیں، جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ ان کا گراونڈ ہے کہ ریلیز اس کو دیا گیا جو فریق نہیں تھا۔جسٹس جمال نے استفسار کیا کہ کیا یہ غلط فیصلہ تھا غلطی تھی یا سوچ سمجھ کر فیصلہ دیا گیا، جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ سوچ سمجھ کر فیصلہ دیا گیا ہے غلطی نہیں تھی۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اس مقدمے میں جس کا حوالہ دے رہے ہیں سفارشات ناقص تھیں۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ خورشید بھنڈر کیس میں سارا غیر آئینی سپر اسٹرکچر ختم کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے باعث 90 سے زائد جج فارغ ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ جب ان کے سامنے غیر آئینی باتیں آئیں تو وہ اسے ٹھیک کرنے کی ہدایت دیں۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 3نومبر 2007کا اقدام غیر آئینی ہے۔ آرٹیکل 185/3 کی اپیل سنتے ہوئے عدالت 184/3 کا اختیار استعمال کر سکتی ہے۔ ہائی کورٹ کے پاس 199سی میں بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے ہر حکم دینے کا اختیار ہے۔ پیر صابر شاہ کیس میں کیا ہوا تھا وہ بھی بتاتا ہوں۔ آرٹیکل 199میں متاثرہ شخص کا درخواست گزار ہونا ضروری ہے لیکن 184 میں نہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کل آپ کا شعر ذہن میں گونجتا رہا، ایک کارٹون بھی یاد آ گیا جس میں رنگ میں 2لوگ ہیں،ان میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں،ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں،ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے،یہ خود سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہے،سلمان راجہ کل آپ نے کہاکہ عدالتوں میں نہیں جا سکتے تھے،سپریم کورٹ نے 100فیصد پی ٹی آئی امیدواروں کور یلیف دیا، تین بنچ بنے ہوئے تھے جس میں ایک بنچ میں میں بھی تھا، جتنی باتیں آپ آج کررہے ہیں وہ مرکزی کیس میں کرنا تھیں،مرکزی کیس میں آپ نے کہاکہ نشستیں ان کو دے دو۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ 2018کے اخبارات کا کارٹون یاد آیا، ایک رنگ میں 2ریسلرز تھے،دو میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے،مسائل جب تک سیاسی لوگ خود حل نہیں کریں گے ہم نہیں کر سکتے،ججز نے نظام کی اصلاحات نہیں کرنی،یہ حقائق آپ نے تو مرکزی کیس میں پیش نہیں کئے۔جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ کہ ابھی آپ نے ایک فہرست پیش کی جو پہلے نہیں تھی،یہ فہرست پہلے کہاں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ یہ ساری چیزیں ہم نے یہاں وہاں سے دیکھیں،ہم نے ریکارڈخود منگوایا اور کہا غلط ہوا، سپریم کورٹ میں تین بنچز الیکشن مقدمات سن رہے تھے،کل اپ کہہ رہے تھے ہم الیکشن کے دوران عدالت نہیں ا ٓ سکتے تھے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ 13جنوری کو ہم ٹکٹ کے ساتھ آر اوز کے پاس بیٹھے تھے، آر او کہہ رہے تھے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد وصول کریں گے،میں نے وہاں ناراضگی کااظہار کیا، کہا کہ وصول کرکے رسید دیں،جو میں نے یہاں عدالت میں بھی پیش کی ہے
،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ یہ ساری باتیں ہو چکی ہیں ہم نے دیکھ کر فیصلہ دیا ہے،سلمان اکرم راجہ اب آپ نظرثانی سے متعلق دلائل دیں۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں فہرست بنائی ہم نے لیکن وہ تو ہمارے سامنے نہیں تھی۔ کیا قانونی شواہد موجود تھے؟۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور 2 بنچز سے 99۔9 کاغذات نامزدگی کے مقدمات پی ٹی آئی کے حق میں آئے تھے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس مقدمے میں فریق عوام پاکستان ہے۔ کئی ایسے مقدمات ہیں جن سے یہ طے ہوتا ہے کہ جہاں عام عوام کا تعلق ہو وہ مفاد عامہ کا مقدمہ ہوتا ہے۔ آرٹیکل 185 تھری میں اپیل آرٹیکل 199 کا تسلسل ہوتی ہے جو بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق ہے۔سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ یہ عدالت اپیل میں مفاد عامہ کے معاملے میں آرٹیکل 184 تھری اور ساتھ آرٹیکل 187 کا دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے۔ پیر صابر شاہ کیس میں ججز نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف براہ راست سپریم کورٹ میں اپیل کا نکتہ طے کیا۔ پیر صابر شاہ کیس میں ججز نے طے کیا کہ مکمل انصاف اور آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ اختیار استعمال ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جوڈیشل ریویو کے لیے دائرہ اختیار استعمال کرنے کا مکمل اختیار ہے۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 185 تھری کا ایک دائرہ اختیار ہے۔ اس کیس میں کم از کم پورے جج کو پتا تو ہوتا ہے کہ کون سا دائرہ اختیار ہے۔ موجودہ کیس میں تو بس فریقین اور عدالت کا معاملہ ہے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ عدالت اور فریقین کا نہیں عوام کے جمہوری حق ہے جس کی خلاف ورزی ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ نے یہ سب عدالت کے سامنے پہلے نہیں رکھا۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ اسمبلی میں درست نمائندگی ہونی چاہیے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا مخصوص نشستیں خالی نہ رکھی جانے پر کوئی آئینی پابندی ہے؟، جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ عدالت نے قرار دے دیا کہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رکھی جا سکتیں ہم تو اس پر منحصر ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کون سے بنیادی حقوق اس کیس میں متاثر ہوئے تھے؟ جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ کیا کوئی عدالت کسی امیدوار اور سیاسی جماعت کے چھوڑے گئے خلا کو پر کر سکتی ہے؟ اگر کسی کے ساتھ دھاندلی ہو اور وہ درخواست دائر کرنے میں غلطیاں کرے تو عدالت اس کو موقع دے سکتی ہے؟ کیا عدالت فریقین کی غلطیوں کو دْور کر سکتی ہے؟سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس کیس میں ایک صورتحال پیدا کی گئی جو پی ٹی آئی نے نہیں کی۔ ہمارے سامنے دیوار کھڑی کر دی جائے اور میں اس کو گرا دوں تو یہ سوال ہو گا کہ دیوار کیوں گرائی یا یہ کہ کھڑی کس نے کی؟جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم آپ کو شنوائی کا حق دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کچھ بھی کہتے جائیں۔ دیوار آپ نے کھڑی کی، آپ سنی اتحاد کونسل میں گئے اور وہ عدالت میں آئے۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ اگلے انتخابات کی تیاری کریں، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایسے ہی حالات رہے تو اگلے انتخابات بھی ایسے ہی ہوں گے۔بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ آئین کی پابند ہے۔ اگر کوئی فیصلہ غیر آئینی ہے تو عدالت اس کو واپس لے سکتی ہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میری نظر میں اکثریتی فیصلہ غیر آئینی نہیں تھا۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت آج جمعہ ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی۔
Comments are closed.