راولپنڈی (آن لائن) ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی چوہدری محمد حسین گادی نے تحریک انصاف کے سابق رکن صوبائی اسمبلی عدنان چوہدری قتل کیس میں نامزد مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق سینیٹر چوہدری تنویر خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا ہے عدالت نے درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے مالیت کے ضمانتی مچلکے اور 2 شورٹی بانڈز کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اگر درخواست گزار کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہیں ہے تو اسے جیل سے رہا کیا جائے عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پرویز نامی ملزم کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے بیان میں بھی درخواست گزار کے ملوث ہونے کا کوئی ذکر نہیں اور چونکہ درخواست گزار اس وقت جیل میں ہے جبکہ اس کیس میں درخواست گزار کے جیل میں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا لہٰذا درخواست گزار کی ضمانت منظور کی جاتی ہے قبل ازیں عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر ایک روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا درخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار کو بلاجواز طور پر مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے حالانکہ وقوعہ کی ایف آئی آر نامعلوم ملزمان کے خلاف درج ہے اسی طرح مقدمہ کے شریک ملزمان دانیال چوہدری، اسامہ چوہدری اور چنگیز چوہدری کی ضمانت قبل از گرفتاری پہلے ہی کنفرم ہو چکی ہے جبکہ سہیل انجم، ظہور اور وہاب پر مشتمل دیگر شریک ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری بھی ہوچکی ہے
اس تناظر میں درخواست گزار بھی قانونی رعایت کا مستحق ہے درخواست میں کہا گیا تھا کہ درخواست گزار اور اس کی فیملی کے افراد محض سیاسی بنیادوں پر مقدمہ میں ملوث کیا جارہا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار عارضہ قلب میں مبتلا ہونے سمیت گزشتہ 2 سال سے مختلف طبی مسائل کا شکار ہے جبکہ جیل میں ضروری طبی سہولیات بھی موجود نہیں ملزم پر لگائے گئے الزامات من گھڑت ہیں استغاثہ کے پاس کوئی شواہد نہیں اس کے باوجود تفتیش کا دوبارہ آغاز کر کے ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی اور مدعی مقدمہ نے پولیس کی ملی بھگت سے گواہان کو کھڑا کیا یہی وجہ ہے کہ اصل حقائق کے لئے بیان حلفی پولیس کو جمع کروایا جسے قبول نہیں کیا گیا اور اب جبکہ مقدمہ میں ہر طرح کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور نہ ہی درخواست کسی حوالے سے تحقیقات میں مطلوب ہے لہٰذا درخواست گزار کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم جاری کیا جائے درخواست گزار عدالت کے اطمینان کے لئے شورٹی بانڈ دینے کو تیار ہے عدالت نے درخواست گزار کی ضمانت پر رہائی کا حکم جاری کردیا قبل ازیں اس مقدمہ میں راولپنڈی کی سیشن عدالت نے گزشتہ سال 6 جون کو چوہدری تنویر کی درخواست ضمانت خارج کر دی تھی
چوہدری تنویر کو ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست واپس لینے اور پولیس کے سامنے سرنڈر کرنے پر تھانہ سول لائن پولیس نے 17 جون کو ہائی کورٹ سے گرفتار کیا تھا جنہیں گزشتہ روز عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا جبکہ 20 جون کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت نے چوہدری تنویر کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا یاد رہے کہ تھانہ سول لائنز پولیس نے سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان کے قتل کے الزام میں مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر چوہدری تنویر ان کے بیٹوں رکن قومی اسمبلی چوہدری دانیال و اسامہ تنویر اور بھائی چوہدری چنگیز سمیت 5 افراد کے خلاف 12 فروری 2024 کو مقدمہ درج کیا تھا یہ مقدمہ مقتول چوہدری عدنان کے برادر نسبتی چوہدری ندیم اقبال کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا تعزیرات پاکستان کی دفعات 302/34، 109 اور 201کے تحت درج مقدمہ نمبر 253 کے مطابق چوہدری عدنان اپنی اسلام آباد نمبر کی پراڈو گاڑی نمبر سی جے 100 کو خود ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ پچھلی سیٹ پر فضل ربی اور چوہدری ظہیر خان کے علاوہ پچھلی لینڈ کروزر نمبر ایس ٹی سی 4677 پر زاہد حفیظ اور احتشام سخاوت بھی موجود تھے عسکری 13 میں ہاوٴسنگ کے دفتر سے واپسی پر جناح پارک کے قریب اشارے پر شلوار قمیص میں ملبوس 2 نامعلوم افراد نے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب سے چوہدری عدنان پر اس وقت اندھا دھند فائرنگ کر دی جب گاڑی اشارے پر رکی ہوئی تھی جس سے گولیاں مقتول کے چہرے اور سینے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر لگیں اور وہ موقع پر دم توڑ گئے جبکہ حملہ آور سڑک کے دوسری جانب موجود موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے تھے۔
Comments are closed.