دریائے سوات جیسے حاد ثات بار بار رونما ہو رہے ہیں ، صوبائی حکومت غفلت کی نیند سو رہی ہے ، عظمیٰ بخاری

لاہور(آن لائن) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوے کہا ہے کہ دریائے سوات میں 16 لوگوں کے ڈوبنے کا حادثہ پہلی بار نہیں ہوا، ایک ہی صوبے میں اس نوعیت کے حادثات بار بار رونما ہوتے رہے ہیں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوے انہو ں نے کہا کہ حادثات کہیں بھی رونما ہوسکتے ہیں

لیکن سوال یہ ہے کہ آپ اپنے تجربات سے کیا سیکھتے ہیں، کسی حادثے کے بعد آپ ریسکیو اور بحالی کا کام کس انداز سے ترتیب دیتے ہیں، جب دریائے سوات کے کنارے اتنے حادثات رونما ہوتے ہیں تو وہاں کہیں ریسکیو کیمپ کیوں قائم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 12،13 سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے، جس وقت پنجاب سے گئے سیاح دریائے سوات میں ڈوب رہے تھے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اڈیالہ جیل کے باہر بادشاہ سلامت کی نوکری کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے لیکن اس صوبے میں 12 سال سے ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے

، متاثرہ خاندان مدد کا انتظار کرتا رہا، کوئی نہیں پہنچا۔سوات حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ سوات میں جان بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا نالائق نااہل اور کرپٹ حکومت ہیں جو اپنے ٹائیگر کو بانٹتی ہے لیکن ریسکیو کے نام پر کچھ کرنے کو تیار نہیں۔عظمیٰ بخاری نے مذکورہ حادثے کے حوالے سے دکھ اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجابی مقتولین کی لاشوں کے تابوت کوڑا اٹھانے والی گاڑیوں میں روانہ کیے گئے جو انتہائی دکھ اور شرمندگی کی بات ہے

، انہوں نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ عزت سے ان کی میتیں بھی روانہ نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ریسکیو کے آلات مشینری کی مد میں صوبائی حکومت کو دیے گئے لیکن یہ آلات جب کہیں چڑھائی کرنا ہو، جب وفاق پر حملہ کرنا ہو تو استعمال کی جاتی ہیں، کسی کو ریسکیو کرنے کے لیے نہیں پہنچتا، جب آپ کے وزیر اعلیٰ کو وفاق پر چڑھائی کرنا ہو تب یہ آلات استعمال ہوتے ہیں ۔

Comments are closed.