الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کے خلاف سپیکر ریفرنس کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد (آن لائن) الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کے خلاف سپیکر ریفرنس کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بدھ کوالیکشن کمیشن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت ممبر کمیشن نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی اس موقع پر ممبر کمیشن نے استفسار کیا کہ سپیکر ریفرنس کیس کا کیا بنا انہوں نے کہا کہ سپیکر ریفرنس کیس میں پشاور ہائیکورٹ کس طرح حکم امتناعی دے سکتی ہے کیا آئین میں کوئی ترمیم ہوئی ہے؟ جسٹس اکرام اللہ کا استفسار جس پر عمر ایوب خان کے وکیل نے کہا کہ سپیکر ریفرنس کیس میں پشاور ہائیکورٹ نے حکم امتناعی دیا ہوا ہے جس پر ممبر کمیشن نے کہا کہ کیس کے فیصلے پر یہ سب کچھ لکھیں گے عمر ایوب کے وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل کام کر رہا ہے درخواست گزار کو الیکشن ٹریبونل میں جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کا ٹائم بار ہو چکا ہے الیکشن میں کامیاب امیدوار کے جاری نوٹیفکیشن کے 60 دن میں چیلنج ہوتا ہے جس پر ممبر کمیشن خیبرپختونخوا نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں جو بھی لکھا ہو مگر انتخاب میں گڑ بڑ کے ایشوز پر کسی بھی وقت ایکشن لے سکتے ہیں۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ڈی آر آو کی 9 فروری کو درخواست دی تھی کہ جعلی بیٹ پیپرز چھاپے جارہے ہیں جس پر عمر ایوب کے وکیل نے کہا کہ جعلی ووٹ ڈلوانے کے حوالے کوئی ایجنسی کی رپورٹ نہیں ہے اسی طرح الیکشن ریگ کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہے

اور درخواست گزار الیکشن ٹریبونل سے رجوع نہیں کیا انہوں نے کہا کہ بابر نواز نے انتخابات کے بعد سوشل میڈیا پر بیان میں شکست کو تسلیم کیا اور لیگی امیدوار نے کامیابی پر عمر ایوب کو مبارکباد دی انہوں نے کہا کہ درخواستگزار کسی قسم کی دھاندلی ثابت نہیں کر سکا ہے اس موقع پر بابر نواز کے وکیل نے کہا کہ عمر ایوب کے وکیل نے صرف یہ دلیل دی کہ کمیشن 60 روز کے بعد سماعت نہیں کر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ یہ انوکھا کیس ہے کہ جیتنے والا امیدوار درخواست دیتا ہے کہ جعلی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 218 تین کے تحت شفاف انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ 9 فروری دوپہر اڑھائی بجے فارم 47 جاری کیا گیا جبکہ 10 فروری کو دس بجے کنسولیڈیشن کا وقت دیا گیا ہمارا موقف ہے کہ ریٹرننگ افسر نے کنسولیڈیشن کی ہی نہیں انہوں نے کہا کہ کسی امیدوار کو ریٹرننگ افسر کا نوٹس موصول نہیں ہوا جس پر ممبر پنجاب نے کہا کہ یہ غلطی تو ریٹرننگ افسر کی ہے، کامیاب امیدوار کا کیا قصور ہے جس پر وکیل نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کامیاب ہونے والے امیدوار کے ساتھ ملا ہوا تھا اور ریٹرننگ افسر کی ملی بھگت کے باعث میری دوبارہ گنتی کی درخواست وصول نہیں کی گئی

انہوں نے کہاکہ بہت سارے پولنگ اسٹیشنز پر جعلی ووٹ ڈالے گئے اور رزلٹ کی کنسالیڈیشن ہوئی نہیں ہے اس موقع پر ممبر کمیشن نے استفسار کیا کہ کسی کیس کی مثال دے سکتے ہیں کہ ٹائم بار ہو گیا اور الیکشن ٹریبونل میں بھی معاملہ نہ گیا ہواور الیکشن کمیشن نے انتخاب کالعدم قرار دیا ہو کوئی مثال ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ دوبارہ گنتی کی درخواست میرے سے کسی نے نہیں لی ممبر کمیشن پنجاب نے کہاکہ آپ کے یہ دلائل تو ریٹرننگ آفیسر کے سامنے بنتے تھے وہاں آپ نہیں گئے جس پر وکیل نے کہاکہ ہمیں رزلٹ کنسالیڈیشن کے حوالے سے کوئی نوٹس نہیں ملا اورریٹرننگ آفیسر نے قانون کی پاسداری نہیں کی انہوں نے کہاکہ ساڑھے گیارہ ہزار ووٹ مسترد ہوا ہے میں دوبارہ انتخاب نہیں مانگ رہا‘ میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کررہا ہوں انہوں نے کہاکہ این اے ایک سو اٹھارہ میں پولنگ اسٹیشنز 604 ہیں اور 1906 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے اور مجموعی طور پر سات لاکھ سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے انہوں نے کہاکہ اس کے مطابق 540 منٹ میں تین لاکھ باسٹھ ہزار ووٹ کاسٹ ہوئے اور سوا دو منٹ میں ایک ووٹ کا سٹ ہوا ہے جو نا ممکن ہے الیکشن کمیشن نے عمر ایوب خان کا انتخاب سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.