پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے نہ کہ اس کا سہولت کار، بلاول بھٹو زرداری

 اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کسی دہشت گرد گروپ کو سپورٹ نہیں کرتا، ملک کے اندریا باہر کسی کو دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا،پاکستان دہشتگردی کا شکار ملک ہے، نہ کہ اس کا سہولت کار، دہشت گردی کا آغاز افغانستان سے ہوا، القاعدہ اور دیگر گروہوں کے ذریعے پھیلاوٴ ہوا، آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں بھی بھارت یہ ثابت نہیں کر سکا کہ پہلگام واقعہ کے حملہ آور کون تھے،پاکستان کیخلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اپنی عوام کو گمراہ کیا ۔ بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں انھوں نے کہا پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہے، گزشتہ سال ہی ایک ہزار دو سو شہری دہشتگردی کا نشانہ بنے، ہم نے مجموعی طور پر بانوے ہزار جانیں گنوائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ملک ہے، نہ کہ اس کا سہولت کار۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان نہ تو کسی دہشت گرد گروہ کو سپورٹ کرتا ہے، نہ ہی ملک کے اندر یا باہر کسی کو دہشت گردی کی اجازت دی جاتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے علاقے پہلگام میں پیش آئے حالیہ دہشتگردی کے واقعے پر متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران دہشتگردی کے نتیجے میں پاکستان میں 1200 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے، جبکہ مجموعی طور پر ملک نے 92 ہزار قیمتی جانیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا آغاز افغانستان سے ہوا، القاعدہ اور دیگر گروہوں کے ذریعے پھیلاوٴ ہوا، جن میں وہ عناصر بھی شامل تھے جو ماضی میں کشمیر میں جہاد کے نام پر سرگرم رہے۔بلاول بھٹو نے بھارتی حکومت کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا جس میں پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف اس حملے کی شفاف تحقیقات کا حامی تھا بلکہ خود کو ان تحقیقات کا حصہ بنانے کے لیے بھی تیار تھا، کیونکہ ہم جانتے تھے کہ ہمارا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں بھی بھارت یہ ثابت نہیں کر سکا کہ حملہ آور کون تھے۔ بلاول بھٹو کے مطابق بھارتی میڈیا نے حالیہ تنازع میں پاکستان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کیا اور بھارتی عوام کو گمراہ کیا گیا۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ آپ 2007 میں پیش آئے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں بھارتی سرزمین پر قتل ہونے والے 40 پاکستانیوں کو یاد کریں، نہ صرف بھارت ان مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہا، بلکہ ملزمان کے اعترافی بیانات میں بھی رد و بدل کی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی برادری نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو تسلیم کیا ہے۔

بعد ازاں، ایکس ( ٹویٹر) پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم بھارتی میڈیا کے ذریعے بھارتی عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے سے نہیں ڈرتے۔ میں نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے کا فیصلہ اس لیے نہیں کیا کہ وہاں سے منصفانہ پلیٹ فارم کی امید تھی بلکہ اس لیے کیا کیونکہ مجھے بھارت کے عوام، خصوصاً نوجوانوں پر یقین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خطے میں امن کا مقدمہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ دونوں قوموں کا مشترکہ مشن ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کہ کہ بھارت اور پاکستان کی نئی نسل ایک نیا مقدر لکھ سکتی ہے۔ ہم وہ نسل ہوں گے جو ماضی کی زنجیروں کو توڑے گی، جنگی جنونیوں، بددلوں، اور نفرت کے بیوپاریوں کو للکارے گی۔سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی سے لے کر ماحولیاتی تبدیلی، اور عدم مساوات تک ہم مل کر اپنے وقت کے اصل چیلنجز کا سامنا کریں گے، ہمارا مستقبل ماضی کے تنازعات سے نہیں بلکہ پرامن بقائے باہمی، تعاون، اور خوشحالی سے متعین ہوگا۔

Comments are closed.