وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحاتی اجلاس، ٹیکس نظام کی بہتری کو ملکی استحکام کیلئے کلیدی قرار دیا

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایف بی آر کی جاری اصلاحات خوش آئند ہیں، مگر ان اقدامات کو معینہ مدت میں مکمل اور پائیدار بنانے کی ضرورت ہے۔ ٹیکس نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ ملکی آمدن میں اضافہ ہو اور عام شہری پر ٹیکس کا بوجھ کم ہو۔یہ بات انہوں نے بدھ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جاری اصلاحات پر منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر برائے اکنامک افیئرز احد چیمہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن، انفورسمنٹ اقدامات اور اصلاحاتی پالیسیوں کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں 1.5 فیصد کا تاریخی اضافہ ہوا ہے، جبکہ 2025 میں ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد 72 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ غیر رسمی معیشت کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ مزید موٴثر بنائی جائے اور ڈیجیٹل وِنگ کی ازسرِنو تشکیل کا جامع منصوبہ بنا کر اس کے اہداف اور مدت واضح کی جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فیس لیس کسٹمز کلیئرنس سسٹم کے باعث کلیئرنس کا وقت کم ہو کر 12 گھنٹے تک لایا جا رہا ہے۔ ریٹیل سیکٹر میں بھی پوائنٹ آف سیلز سسٹم اور سخت نگرانی کی بدولت 455 ارب روپے زائد ٹیکس وصول کیا گیا۔

وزیراعظم نے ٹیکس اصلاحات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے، کاروباری طبقے کی سہولت کو مدنظر رکھنے، اور بین الاقوامی ماہرین کی تجاویز کو شامل کرنے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے ایف بی آر حکام اور اصلاحات پر کام کرنے والے افسران کی کوششوں کو سراہتے ہوئے آئندہ ہفتے قابل عمل اہداف اور ان کی تکمیل کے اوقات کار کے ساتھ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

Comments are closed.