غیرت کے نام پر نو بیاہتا لڑکی کا قتل‘ جرگے کے سربراہ سمیت 6مرکزی ملزمان 4روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
راولپنڈی(آن لائن)سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی قمر عباس تارڑ نے تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں مبینہ طور پر جرگے کے فیصلے کے تحت غیرت کے نام پر نو بیاہتا لڑکی کے قتل میں نامزد جرگے کے سربراہ سمیت قتل کے 6 مرکزی ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر تھانہ پیرودھائی پولیس کی تحویل میں دے دیا اور ہدایت کی ہے کہ یکم اگست کو ملزمان کو دوبارہ عدالت میں پیش کر کے تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے مقدمہ کے تفتیشی سب انسپکٹر شبیر حسین نے جرگے کے سربراہ اور مقامی یونین کونسل کے وائس چیئرمین و مسلم لیگی رہنما عصمت اللہ خان مقتولہ کے والد عرب گل، بھائی ظفر اللہ خان، شوہر ضیا الرحمن، سسر صالح محمد خان عرف سلیم گل اور چچا سسر آمانی گل عرف مانی گل پر مشتمل 6 ملزمان کو سخت سکیورٹی میں عدالت پیش کیا۔
پولیس کی جانب سے عدالت میں دیئے گئے پرچہ ریمانڈ میں 7 یوم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ یہ ملزمان سدرہ قتل کیس میں نامزد ہیں جن میں سے سلیم گل، مانی گل اور عرب گل کو اتوار کی رات گرفتار کیا گیا تھا جبکہ دیگر 3 ملزمان کی گرفتاری پیر کے روز عمل میں آئی ہے ملزمان سے قتل میں استعمال ہونے والے تکیئے/سرہانے کی برآمدگی کے علاوہ دیگر پہلوں پر تحقیقات کرنا ہیں لہذا 7 یوم کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے تاہم عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ یاد رہے کہ تھانہ پیرودھائی پولیس نے 21 جولائی کو مقتولہ کے شوہر ضیا الرحمن کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 اے کے تحت مقدمہ نمبر 926 درج کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ رواں سال 17 جنوری کو سدرہ سے اس کی شادی ہوئی چند روز قبل 11 جولائی کو گھریلو مسئلہ پر دونوں میاں بیوی کا معمولی جھگڑا ہوا اور اسی رات گئے اس کی بیوی 10 تولے سونا اور ڈیڑھ لاکھ روپے لے کر گھر سے بھاگ گئی سسرال سمیت ہر جگہ تلاش کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کے عثمان نامی شخص کے ساتھ مراسم تھے اور وہ اس کے ساتھ بھاگ گئی ہے تاہم دوسری جانب پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ سدرہ کو قتل کیا گیا ہے جس پر سی پی او راولپنڈی نے تھانہ پیرودھائی پولیس کو ٹاسک سونپا پولیس نے پیرودھائی کے چھتی قبرستان میں مسخ شدہ مشکوک قبر کی تحقیقات کیں تو قتل کے محرکات سامنے آنا شروع ہوئے جس کے تحت مقتولہ کا کزن عصمت اللہ اور مقتولہ کا والد عرب گل مظفر آباد سے منت سماجت کرکے کے مقتولہ کو واپس راولپنڈی لے ائے جہاں عصمت اللہ خان کی سربراہی میں ہونے والے جرگے میں سدرہ کے قتل کا فیصلہ کیا گیا
جس کے بعد 16 اور 17 جولائی کی رات اسے گلا دبا کر قتل کیا گیا اور 17 جولائی کو نمازِ فجر کے بعد میت لوڈر رکشے پر رکھ کر پیرودھائی کے چھتی قبرستان پہنچائی گئی جہاں پر گڑھا کھود کر مقتولہ کو دفن کر کے مٹی برابر کردی گئی پولیس کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کے بعد اس مقدمہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 311، 201 اور 109 کو شامل کیا گیا جس میں 3 ملزمان کو ابتدائی طور پر گرفتار کیا گیا جنہوں نے قتل، میت کی خفیہ تدفین کا اعتراف کرتے ہوئے قتل میں شامل دیگر تمام افراد کے نام بھی اگل دئیے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سدرہ قتل کیس میں شوہر ہونے کے دعویدار عثمان نے ایک روز قبل خود کو پیرودھائی پولیس کے حوالے کیا تھا عثمان کے والد نے اپنے بیٹے عثمان کو مظفر آباد سے لاکر تھانہ پیرودھائی پولیس کے سامنے پیش کیا جبکہ عثمان کے والد نے بیٹے کی جان کی حفاظت کے لئے بھی پولیس کو اپیل کر رکھی ہے۔
Comments are closed.