سپریم کورٹ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی آٹھ اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی آٹھ اپیلیں سماعت کے لیے مقررکردی اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ ٓآج منگل کو ساڑھے نو بجے سماعت کرے گا

چیف جسٹس یحیٰ آفریدی کے ساتھ جسٹس محمد شفیع صدیقی بھی بنچ کاحصہ ہوں گے۔ایڈوکیٹ سلمان صفدر کے ذریعے بانی پی ٹی آئی نے نو مئی کیسز میں ضمانت بعد از گرفتاری کے لئے اپیلیں دائر کی تھیں،لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی تھی،پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے 9 مئی کے مقدمات میں ضمانت کی درخواست منسوخ کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا۔سابق وزیراعظم نے ہفتہ کے روز اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے اپیل دائر کی، جس میں وفاقی حکومت اور گلبرگ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر عمران صادق کو فریق بنایا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) لاہور نے 27 نومبر 2024 کو جناح ہاوٴس پر حملے سمیت 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق آٹھ الگ الگ مقدمات میں عمران خان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔گزشتہ ماہ جسٹس شہباز علی رضوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد قید سابق وزیراعظم کی ضمانت کی درخواستیں بھی خارج کر دی تھیں۔سلمان صفدر نے موٴقف اختیار کیا کہ ان کے موٴکل کا 9 مئی کے تشدد یا آتش زنی کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اس وقت نیب کی حراست میں تھے اور بعد میں انہوں نے کھلے عام ان واقعات کی مذمت کی۔

لہٰذا ان کا ان فسادات میں ملوث ہونا ناممکن ہے۔ انہوں نے استغاثہ کے بیانات میں تضادات کی بنیاد پر مقدمے پر شکوک کا اظہار کیا۔درخواست گزار کے وکیل نے موٴقف اپنایا کہ ایف آئی آر میں ناکافی شواہد موجود ہیں اور ان پر فسادات میں ملوث ہونے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے خلاف الزامات سیاسی انتقام پر مبنی ہیں اور وفاقی حکومت اپنا موٴقف بار بار بدل رہی ہے، جو کرکٹ کی اسٹریٹجی کی طرح ہے جس میں کنفیوڑن پیدا کرنے والی گیندیں، گوگلی اور آف بریک شامل ہیں۔

وکیل کے مطابق حکومت کو اسی نوعیت کے مقدمات میں پہلے ہی کئی قانونی فیصلوں میں شکست ہو چکی ہے، اور انہوں نے اپنے موٴقف کے حق میں تقریباً 25 عدالتی فیصلے پیش کیے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ تمام مقدمات میں شکایت کنندہ پولیس اہلکار ہیں۔درخواست گزار نے مقدمے کی مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا کیونکہ ان کے مطابق پولیس نے بدنیتی کے تحت انہیں پانچ ماہ تک گرفتار کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے موٴقف اپنایا کہ ان کے خلاف شواہد ناکافی ہیں جبکہ دیگر شریک ملزمان کو پہلے ہی ضمانت دی جا چکی ہے۔انہوں نے پولیس کے تاخیر سے ریکارڈ کرائے گئے بیانات کو ناقابلِ اعتماد قرار دیا اور کہا کہ انہیں ضمانت کا حق حاصل ہے۔

Comments are closed.