پاکستان تحریک انصاف نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو فیصل آبادکی عدالت سے سزاؤں پر شدید ردعمل کا اظہار

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو فیصل آبادکی عدالت سے سزاؤں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان فیصلوں کا اصل مقصد کوئی قانونی انصاف نہیں، بلکہ 5 اگست کے عوامی احتجاج کو روکنے کی منظم کوشش ہے، جس کا اعلان خود عمران خان نے کیا تھا‘عدلیہ اب خود اس فسطائی نظام کا حصہ بن چکی ہے۔ہم عوام سے مخاطب ہیں، کہ وہ سچ اور انصاف کے اس قافلے میں عمران خان کا ساتھ دیں۔

فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب خان، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر شبلی فراز، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور دیگر کارکنان کو 9 مئی کے جھوٹے، من گھڑت اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات میں سزائیں دینے کے فیصلے پہ ردعمل میں ایک بیان میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب خان، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر شبلی فراز، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں انسانی حقوق کی کمیٹی کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا،قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر زرتاج گل، ریجنل صدر رائے حسن نواز اور دیگر کارکنان کو 9 مئی کے جھوٹے، من گھڑت اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات میں سزائیں دینے کے فیصلے کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتی ہے۔مجموعی طور پہ ہمارے 6 ممبران قومی اسمبلی، 3 ممبر پنجاب اسمبلی اور ایک سینیٹر کو سزا ہوئی۔ یہ فیصلہ نہ صرف آئین و قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ انصاف کے چہرے پر ایک اور سیاہ دھبہ ہے۔

ریاستی نظام کے اشارے پر یوں عدلیہ کا تسلسل کیساتھ ربڑ اسٹیمپ بن جانا اور بغیر کسی شفاف ٹرائل، ثبوت، گواہوں پر جرح یا دفاع کے حق کے، محض سیاسی دباوٴ پر یکے بعد دیگرے ایسے سنگین فیصلے سنانا ایک خطرناک رجحان ہے جو عدالتی نظام کی ساکھ کو مکمل طور پر زمین بوس کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آیا ہے کہ دونوں ایوانوں کے قائدین حزب اختلاف کو صرف اس بنیاد پر سزائیں دی گئیں کہ وہ عمران خان کے سیاسی بیانیے، عوامی نمائندگی اور آئینی جدوجہد کے وفادار ساتھی ہیں۔ان فیصلوں کا اصل مقصد کوئی قانونی انصاف نہیں، بلکہ 5 اگست کے عوامی احتجاج کو روکنے کی منظم کوشش ہے، جس کا اعلان خود عمران خان نے کیا تھا۔ آج کی یہ سزائیں اور آج صبح متعدد دیگر رہنماوٴں کے خلاف جاری کیے گئے وارنٹ، سب اسی خوف کی کڑیاں ہیں جو ریاستی نظام کو عمران خان کی پرامن عوامی تحریک سے لاحق ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ ان رہنماوٴں پر مقدمات اور سزائیں دراصل ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے عمران خان کی قیادت میں ابھرنے والی عوامی بیداری اور سیاسی شعور کو دبایا جا رہا ہے۔

ان ظالمانہ اقدامات کا مقصد صرف ایک ہے کہ عمران خان کی آواز کو خاموش کرنا، تحریک انصاف کو دیوار سے لگانا، اور عوام کی نمائندگی کو ہمیشہ کے لیے یرغمال بنانا۔لیکن ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ سزائیں، یہ وارنٹ، یہ انتقامی ہتھکنڈے، سب ہمارے جذبے کو مزید جلا بخشتے ہیں۔عمران خان کا ویڑن ہمارے دلوں میں زندہ ہے، اور اس کے لیے ہماری وفاداری غیر متزلزل ہے۔ہمارے رہنما اور کارکنان ہر قربانی کے لیے تیار ہیں، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ظلم کے اندھیروں میں صرف وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو مزاحمت کرتی ہیں۔عدلیہ اب خود اس فسطائی نظام کا حصہ بن چکی ہے۔ہم عوام سے مخاطب ہیں، کہ وہ سچ اور انصاف کے اس قافلے میں عمران خان کا ساتھ دیں۔تحریک انصاف اپنی آئینی، سیاسی اور قانونی جدوجہد ہر محاذ پر پوری قوت سے جاری رکھے گی، کیونکہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، آزادی اتنی ہی قریب آتی ہے۔

Comments are closed.