میاں اظہر مرحوم کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق تھا وہ ایک اچھے انسان اور صاف ستھری سیاست کرتے تھے‘خواجہ آصف

میاں اظہر قومی سیاست کرنے والے ایک زیرک سیاستدان تھے اور عوامی سیاست کرتے تھے‘ ڈاکٹر فاروق ستار
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر سینٹ کو 10/10سال کی سزائیں سنائی گئی ہیں یہ جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا ‘علی محمد خان
قومی اسمبلی میں سابق گورنر اور رکن قومی اسمبلی میاں اظہر مرحوم کو ان کی شاندار سیاسی خدمات پر خراج تحسین پیش
اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں سابق گورنر اور رکن قومی اسمبلی میاں اظہر مرحوم کو ان کی شاندار سیاسی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا گیا اراکین اسمبلی نے کہاکہ میاں اظہر سیاست میں شرافت اور وضع داری کے قائل تھے اور اپنے مخالف سیاستدانوں کے ساتھ بھی محبت اور احترام کا رشتہ رکھتے تھے۔سوموار کو قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر عامرڈوگر نے کہاکہ جس دن رکن اسمبلی کا انتقال ہوتا ہے اس دن کوئی بھی بزنس نہیں ہوتا ہے‘ ہم باقاعدہ احتجاج بھی کریں گے اور اپنا نکتہ نظر بھی پیش کریں گے انہوں نے کہاکہ ہمارے اپوزیشن لیڈر سمیت زرتارج گل،جمشید دستی،رائے حسن نواز،صاحبزادہ حامد رضا سمیت کئی اراکین اسمبلی کو دہشت گردی کی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئی ہیں ہم آج اس کا بھی شکوہ کریں گے انہوں نے کہاکہ میاں اظہر کا کہنا تھا کہ میرا دل نہیں کرتا کہ اس جعلی اسمبلی کا حصہ بنوں۔انہوں نے کہاکہ اڈیالہ جیل کے باہر اس بزرگ ایم این اے کو بھی مارا گیا اور یہ فسطائیت کی ایک مثال ہے

انہوں نے کہاکہ میں ان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں اس موقع پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ میاں اظہر مرحوم کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق تھا وہ ایک اچھے انسان اور صاف ستھری سیاست کرتے تھے انہوں نے ہماری پارٹی سے اختلافات کے باوجود کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے ہمیں رنج پہنچے انہوں نے کہاکہ اس ماحوال میں پی ٹی آئی کا کوئی بھی ممبر ہمارے ساتھ نہیں ملتا ہے مگر وہ آتے تھے اور ہمارے ساتھ ملتے تھے رکن اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ میں اپنے اور اپنی جماعت کی طرف سے میاں اظہر کی وفات پر ان کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں وہ سیاست میں شرافت اور دیانت کے قائل تھے اللہ پاک انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے رکن اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ میاں اظہر قومی سیاست کرنے والے ایک زیرک سیاستدان تھے اور عوامی سیاست کرتے تھے اور سیاست میں ان کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا رانا تنویر حسین نے کہاکہ میاں اظہر مرحوم کے ساتھ میرا رشتہ سیاسی طور پر بہت مظبوط تھا اور انہوں نے بھرپور طریقے سے میری حمایت کی انہوں نے کہاکہ میاں اظہر مرحوم بہت خوبیوں کے مالک تھے اور ان کے خاندان کو صبر جمیل عطاء کرے رکن اسمبلی عثمان بادینی نے کہاکہ میاں اظہر اچھے اخلاق کے مالک تھے رکن اسمبلی علی محمد خان نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر سینٹ کو 10/10سال کی سزائیں سنائی گئی ہیں یہ جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا ہے انہوں نے کہاکہ میاں اظہر کے بیٹے سے ملاقات کے بعد شناسائی ہوئی توحماد کو ایک سلجھا ہوا انسان پایا انہوں نے کہاکہ میاں اظہر کے ساتھ ملاقات کے وقت ہمیشہ اپنے چچا کی طرح پایا ہے انہوں نے کہاکہ اس اسمبلی کے دورمیں میاں اظہر اپنے بیٹے سے بھی بات نہیں کرسکتے تھے اور 16ماہ تک اپنے بیٹے سے نہ مل سکے اور نہ بات کرسکے انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں یہ سوال رکھتا ہوں کہ بھٹو صاحب کا جنازہ بھی سنگینوں کے سائے میں ہوا انہوں نے کہاکہ اگر سیاستدانوں کے جنازے سنگینوں اور خوف کے سائے میں ہونگے اور ملک کا سابق وزیر اعظم اس وقت جیل میں ہے

اور ہم وفات ہونے کے بعد اگر سیاستدانوں کے قصیدے پڑے گے تو یہ افسوسناک ہے وفاقی وزیر اطلاعات میاں عطاء تارڑ نے کہاکہ میاں اظہر اچھے صفات اور اخلاق کے مالک تھے یہ پاکستان کی سیاست اور اس ایوان کا نقصان ہے اور ان کے جانے سے سیاست میں ایک خلاء پیدا ہوا ہے وہ لاہور کی سیاست کے ایک بڑے نام تھے اور ان کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گاانہوں نے کہاکہ وزیر اعظم شہاز شریف اور میاں نواز شریف کی والدہ وفات پاگئی تھی اور ہم عدالت میں کھڑے تھے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو 9مئی کی سزائیں قانون کے مطابق ملی ہیں وہ ان سزاؤں کو عدالتوں میں چیلنج کریں رکن اسمبلی لطیف کھوسہ نے کہاکہ آج اس خالی نشست کو دیکھ کر میرے دل کو ہول پڑ رہا ہے میاں اظہر سیاست میں شرافت کامجسمہ تھے وہ ممبر قومی اسمبلی اور گورنر کے عہدے پر رہے اور وہ محبت کرنے والے انسان تھے انہوں نے کہاکہ یہ چوری چوری حماد اظہر سے ملتے رہے ہیں مگر ان کو سیاست نہیں کرنے دی جارہی ہے اور چھاپے مارے جارہے ہیں اس خاندان کو سیاست کرنے دی جائے رکن اسمبلی خواجہ شیراز محمود نے کہاکہ میاں اظہر ملک میں شرافت کی سیاست کے علم بردار تھے ان سے ہمیشہ سیکھنے کا موقع ملا تھاان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں رکن اسمبلی شہریار افریدی نے کہاکہ میاں محمد اظہر مرحوم ایک باوقار اور باکردار انسان تھے ان کی رحلت اس ایوان اور تحریک انصاف کیلئے بہت بڑا نقصان ہے وہ اس ایوان میں عوام کے حقیقی نمائندے تھے انہوں نے کہاکہ جب انسان زندہ ہوتے ہیں تو اس کی بے توقیری ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں سیاستدانوں کی ماؤں بہنوں کی تذلیل کی روایت ختم کرنی ہوگی رکن اسمبلی حمید حسین نے کہاکہ یہ ایوان ایک اچھے سیاستدان نے محروم ہوگیا ہے اس ایوان میں میری پہلی ملاقات میاں اظہر سے ہوئی تھی وہ ایک شفیق انسان تھے رکن اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل نے کہاکہ میاں محمد اظہر شرافت،صداقت،دیانت اور حق کے ساتھی تھے

انہوں نے ساری زندگی رواداری کی سیاست کو فروغ دیا ہے انہوں نے ہرمکتبہ فکر کے لوگوں کے ساتھ احترام کا وقت گزارا ہے اور ساری زندگی جدوجہدمیں گزاری ہے وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ بلاشبہ میاں اظہر شرافت کے پیکرتھے اور سیاست میں بھی شرافت دکھائی ہے وہ خلوص اور پیار سے ملتے تھے انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے بدقسمتی سے سیاست میں ہم اتنے آگے چلے گئے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے اپوزیشن کو دو بار مل بیٹھ کر بات کرنے کی درخواست کی مگر ہم ایک میز پر بات کرنے کے بھی روادار نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا ہوگا یہ حالات اس وقت درست ہونگے جب ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں اور مسئلے کا حل نکالیں انہوں نے کہاکہ اگر ہم ایک دوسرے کے گریبان پکڑیں گے اور بات نہیں کریں گے تو حالات ایسے ہی رہیں گے انہوں نے کہاکہ ایرانی زائرین پر پابندی سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے ہے اور یہ مختصر عرصے کیلئے ہے حکومت کو اس کا احساس ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں سہولیات فراہم کرے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام سے بھی بات چیت کی ہے اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہاکہ میاں اظہر سے ہمارا دیرینہ تعلق تھا اور ہمارے ساتھ نہایت شفیق اور مخلص تھے اس موقع پر رکن اسمبلی میاں محمد علی نے کہاکہ مرحوم میاں اظہر میرے چچا تھے اور انہوں نے مجبوری کی حالت میں یہ الیکشن لڑا تھا انہوں نے کہاکہ میاں اظہر کو آڈیالہ کے باہر پولیس کی جانب سے مارا گیا اس دکھ میں ایسی باتیں تکلیف دہ ہوتی ہیں جو وزیر اطلاعات نے کی ہیں۔۔۔۔ایوان کی کاروائی آج منگل تک ملتوی کردی گئی۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.