بنوں میں سیکیورٹی فورسز پر خودکش حملے میں بھی افغانی ملوث نکلے، سیکیورٹی ذرائع

اسلام آباد(آن لائن)بنوں میں سیکیورٹی فورسز پر خودکش حملے میں بھی افغانی ملوث نکلے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے بنوں میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے 5 خودکش بمباروں میں سے تین افغان شہری تھے، ان خودکش حملہ اوروں نے پاکستانی حملہ اوروں سے ملکر سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کی پشت پناہی وہی عناصر کر رہے ہیں جو پاکستان کی مہمان نوازی سے فائدہ اٹھا کر یہاں پناہ گزین کے روپ میں بیٹھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تمام پانچوں خودکش بمبار مارے گئے تھے،

اس سے قبل بھی متعدد واقعات میں افغان شہری ہی ملوث نکلے تھے، سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے تشکیل دیے جانے والے گروپ میں 70 سے 80 فیصد افغان شہری ہی ہوتے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانی خود کش حملہ ٓاوروں کے نام عبدالعزیز عرف قادر مہاجر، ملاں شبیر احمد عرف ملاوج بلال مہاجر اور نجیب اللہ عرف حذیفہ مہاجر سامنے آئے ہیں، عبدالعزیز کا تعلق مٹہ خان ضلع پکتیکا سے ہے، یہ خودکش حملہ اور اپنا ویڈیو بیان بھی جاری کر چکا تھا،ملا شبہر کا تعلق گاوں عبدالمحی الدین ضلع سید آباد سے نکلا ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نجیب اللہ کا تعلق موسی خیل ضلع خوست سے ہے، اس خود کش حملہ آور نے گاڑی میں دھماکہ خیز مواد رکھا تھا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کی پشت پناہی وہی عناصر کر رہے ہیں جو پاکستان کی مہمان نوازی سے فائدہ اٹھا کر یہاں پناہ گزین کے روپ میں بیٹھے ہیں۔ آج 70 سے 80 فیصد وہ تشکیلیں جو افغانستان سے پاکستان آ رہی ہیں، افغان باشندوں پر مشتمل ہیں۔

لیکن جب ریاست اپنی بقا کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھانے کا ارادہ کرتی ہے، چاہے وہ افغانستان کے اندر موجود دہشتگرد کیمپوں کے خلاف کارروائی ہو یا پھر افغان مہاجرین کی واپسی، تو فوراً ایک شور و غوغا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ شور کہیں پی ٹی ایم کے نعروں میں سنائی دیتا ہے، کہیں خیبرپختونخوا حکومت کی کمزوریوں میں، اور کہیں نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں اور خودساختہ“لبرلز”کی چیخ و پکار میں۔یہ تمام گروہ دہشتگردوں کے سہولت کار ہیں۔ یہ انسانی حقوق کی آڑ میں دہشتگردوں کو ڈھال فراہم کرتے ہیں اور ریاست کے ہاتھ باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے مشکوک آقاؤں سے پیسہ کماتے ہیں جبکہ پاکستان اپنے معصوم شہریوں کے خون سے قیمت چکاتا ہے۔

Comments are closed.