باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے ذمہ دار شہری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے ٹیکس دہندگان کی پذیرائی کے لیے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس دہندگان کی ڈائیریکٹری کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے ذمہ دار شہری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں، ٹیکس دہندگان کی پزیرائی اور ٹیکس چور افراد کی سرزنش ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ وزیراعظم نے ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کے لیے کاروبار دوست ماحول اور ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی جبکہ ٹیکس چور افراد کی شناخت اور ان سے محصولات کی وصولی کے لیے پروفیشنلز کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کمپنیوں کی شناخت کے لیے نہ صرف ایف بی آر میں موجود افرادی قوت بلکہ نجی شعبے کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔وزیراعظم نے حکومت کے ٹیکس چوری کے خلاف اقدامات کے حوالے سے عوام کے لیے آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی اور کہا کہ کسٹم کلیرینس میں مس ڈیکلیریشن اور انڈر انوائسنگ کے تھرڈ پارٹی جائزے کے لئے بہترین بیرون ملک آڈیٹرز کا انتخاب کیا جائے۔تھرڈ پارٹی جائزے کو جاری رکھا جائے تاکہ سسٹم کے اندر خامیوں کی نشاندھی ہو سکے، اور اسکو مزید بہتر بنایا جاسکے۔اجلاس میں وزیراعظم کو ٹیکس چوروں کی شناخت کے لیے اقدامات، ٹیکس پیئر ڈائریکٹری اور محصولات میں اضافے کے لیے سپر آڈیٹرز کے ذریعے لیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ انکم اور سیلز ٹیکس دہندگان کی پزیرائی کے لیے ٹیکس پیئر ڈائریکٹری کی تکمیل پر کام تیزی سے جاری ہے

، کسٹم کلیرینس میں مس ڈیکلیریشن اور انڈر انوائسنگ کے تھرڈ پارٹی جائزہ کے لئے ایک سائنٹفک آڈٹنگ نظام ترتیب دیا گیا ہے۔اس نظام کے تحت سپر آڈیٹرز کا تعین کیا گیا جنھوں نے کسٹم کلیرینس اور رسک مینیجمنٹ سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس جائزے سے مرتب شدہ نتائج کو رسک مینیجمنٹ سسٹم میں بہتری کے لئے استعمال کیا جائے گا۔اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Comments are closed.