ہم پارلیمنٹ سے مشورہ لے سکتے ہیں، کیا کافی ہے کیا ناکافی، فیصلہ پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے‘جسٹس جمال مندوخیل

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہم پارلیمنٹ سے مشورہ لے سکتے ہیں، ہو سکتا ہے کوئی اچھا مشورہ مل جائے۔ کیا کافی ہے کیا ناکافی، یہ فیصلہ تو پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے۔ حکومت نے ایک انسینٹیو دیا، ایک قانون آتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اسے معطل کر دیا ہے۔ ماضی میں ایک قانون موجود تھا، اب ترمیم ہو گئی ، اس کا تعلق ماضی سے ہو گا۔جبکہ کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل دیتے ہوئے موٴقف اختیار کیا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کی دی گئی ڈائریکشن کی پابند ہوتی ہے

انھوں نے یہ دلائل جمعرات کے روز دیے ہیں ۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کی، جس میں کمپنیوں نے وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو ڈائریکشن سپریم کورٹ دے، پارلیمنٹ اس کی پابند ہوتی ہیجسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہم پارلیمنٹ سے مشورہ لے سکتے ہیں، ہو سکتا ہے کوئی اچھا مشورہ مل جائے۔ کیا کافی ہے کیا ناکافی، یہ فیصلہ تو پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے۔ حکومت نے ایک انسینٹیو دیا، ایک قانون آتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اسے معطل کر دیا ہے۔ ماضی میں ایک قانون موجود تھا، اب ترمیم ہو گئی ، اس کا تعلق ماضی سے ہو گا۔وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت نے ایک رعایت دی ہے

، مجھے نہ ملے تو اس کا تعلق ماضی کے قانون سے ہی ہوتا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ حکومت انسینٹیو دے رہی ہے۔ حکومت کچھ نہیں دے رہی، یہاں بات منافع اور انکم کی ہو رہی ہے۔ میری پراپرٹی ہے میں نے آپ کو بیچ دی، اب فائدہ ہو یا نقصان وہ آپ کا ہے۔فروغ نسیم نے کہا کہ رعایت کی حد تک عدالتوں کو حکومت کو ترمیم کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے پوچھا کہ کل چھبیسویں ترمیم سنیں گے یا سپر ٹیکس کی سماعت ہو گی؟، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جمعہ کو سپر ٹیکس کیس ہی سنیں گے۔ سپر ٹیکس کیس کی مزید سماعت آج جمعہ کی صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

Comments are closed.