پیٹرولیم کی بڑھتی قیمتوں کی وجوہات اور مستقبل کا لائحہ عمل،عالمی پیٹرولیم کمپنیوں کی پاکستان واپسی کی راہ ہموار کرنے پر غور

اسلام آباد(آن لائن )پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کی وجوہات اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل کے تحت بین الاقوامی پیٹرولیم کمپنیوں کی پاکستان واپسی کی راہ ہموار کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔

ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنا نے سمیت الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروا کر پیٹرولیم کے مسائل کو حل کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔پاکستان میں 90 فیصد پیٹرولیم مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں جبکہ محض 10 فیصد پیداوار پاکستان میں ہوتی ہے، پاکستان میں 2014 میں ہمارے پاس 100 تیل کے کنویں تھے اور آج 47 رہ گئے ہیں، ہمارے پاس 1400 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات موجود ہیں جبکہ ضرورت 26 ملین میٹرک ٹن سے بھی زائد کی ہے ، ضرورت اور پیداوار میں یہ فرق دن بدن بڑھتا جارہا ہے، 2014 سے ہمارے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے

بین الاقوامی تیل نکالنے والی کمپنیاں پاکستان میں کام کرنے سے گریزاں ہیں اور اس کی وجہ حکومت پاکستان کا واجب الادا رقم کی عدم ادائیگی ہے ، 2010 سے اب تک 11 بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں کام بند کرکے جاچکی ہیں، بین الاقوامی پیٹرولیم کمپنیوں کی پاکستان میں واپسی ملکی ترقی اور مہنگائی کی شرح کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے ، ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں دیکھا جائے تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سب سے کم ہیں ، پاکستان میں ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنا کے اور الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروا کر پیٹرولیم کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے،،۔

Comments are closed.