چئیرمین نادرا کے طور پر غیر جانبدار اور سیاسی دبائو کا سامنا کرنے والے افسر کا انتخاب لازمی

اسلام آباد(آن لائن )نادرا کے چئیرمین کے طور پر غیر جانبدار اور سیاسی دبائوکا سامنا کر پانے والے شخص کا انتخابات ضروری ہے ۔

ذرائع کے مطابق چونکہ نادرا ایک حساس ادارہ ہے اور اس کا ڈیٹا بیس لیک ہونے سے قومی سلامتی کو سنگین خدشات لاحق ہوسکتے ہیں لہذ ا یک شخص جو قومی سلامتی کی حدود سے واقف ہو اور سیاسی دبائو کا مقابلہ کر نے کے ساتھ ساتھ غیر جانبداری کا مظاہرہ اور قومی مفاد کو سرفہرست رکھ پائے،اسکا بطور سربراہ انتخاب لازمی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران وفاقی حکومت نے ایک حاضر سروس فوجی افسر کو بطور چیئرمین کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے نادرا قوانین میں ترامیم کی منظوری دی ہے۔ یہ اقدام متنازعہ بن سکتا ہے لیکن یہ ادارے کے لیے بہت زیادہ مفید ہے ۔ ماضی میں ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جب نادرا عملے کی ملی بھگت سے یا اسکے بغیر ادارے کے بائیو میٹرک تصدیقی نظام اور سافٹ ویئر کے ساتھ سمجھوتہ کیا گیا ۔

نومبر 2021 میں، ایف آئی اے نے فیصل آباد میں نادرا برانچ سے کئی افراد کو گرفتار کیا۔جنوری 2022، ایک افغان شہری کو ایف آئی اے نے پکڑا جسے جعلی شناختی کارڈ جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد نادرا کے ایک سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو سہولت کار کے طور پر کام کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ اکتوبر 2022 میں، نادرا کے نوٹس میں لایا گیا کہ گزشتہ 3 سالوں کے دورانغیر شہریوں کو 181 قومی ڈیجیٹل شناختی کارڈ جارری کیے گئے۔دوران تفتیش معلوم ہوا کہ افغان، برمی اور ایرانی شہری قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے جعلی دستاویزات استعمال کرتے رہے ہیں اور نادرا ملازمین کی ملی بھگت شامل تھی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نادرا کے ڈیٹا بیس اور اس کے آپریشنز کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے بطور سربراہ ایک نظم و ضبط والے پس منظر کے حامل افسر کی ضرورت ہے جس کا کسی طرف سیاسی جھکائونہ ہو اور شہریوں کے ریکارڈ اور ان کی رازداری کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اہم اقدام ہوگا۔

نادرا ڈیٹا بیس کے قومی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں کوئی بھی خلاف ورزی یا ڈیٹا لیک شہریوں،سرکاری اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایک ڈسپلن ادارے ترجیحی طور پر فوج سے تعلق رکھنے والے شخص کا بطو رچیئرمین انتخاب ہونے سے ڈیٹا کی خلاف ورزی اور شناخت کی چوری کے خطر ات کم ہوجائیں گے ۔ نادرا کا ڈیٹا سیکورٹی سے متعلق ممکنہ خطرات کی شناخت اور ان کا سراغ لگانے کے لیے ضروری ہے۔ ایک حاضر سروس فوجی افسر کی تقرری سے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے نادرا اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون مزید بڑھے گا ۔نادرا کا ڈیٹا حساس ہے اور سائبر سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے ہم آہنگ رہنے کے لیے ادارے کو تکنیکی طور پر بڑے پیمانے پر اپ ڈیٹ کرنا ناگزیر ہے ۔

سائبر سیکیورٹی خطرات کے مضمرات کو سمجھنے والا شخص نادرا کو سائبر حملوں کے خلاف مزید مضبوط بنانے کے لیے موجودہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنا سکتا ہے۔ علاوزہ از یں آئندہ عام انتخابات میں نادرا کا ایک اہم کردار ہوگا لہذاضروری ہے کہ ایسا چیئرمین ہو جو کسی بھی قسم کے سیاسی اثرورسوخ/وابستگیوں سے پاک ہو اور چونکہ ایک فوجی افسر غیر سیاسی ہوتا ہے ، اس کے ماتحت نادرا ممکنہ طور پر غیر جانبداری برقرار رکھے گا جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے بہت ضروری ہے۔ فوجی پس منظر کے حامل چیئرمین کے پاس وسائل مختص کرنے کی مہارت ہو گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ نادرا اپنے بجٹ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔

Comments are closed.