چپ کرکے الیکشن کروائیں جو بھی اکثریت میں آئے اسے سیاسی ماحول دیکر حکومت پکڑا دیں اور اسے حکومت کرنے دیں ۔اگر آپ نے نئے تجربات کئے تو نقصان ہوگا،محسن بیگ

اسلام آباد(آن لائن )معروف تجزیہ کار و سینئر صحافی محسن بیگ نے کہا کہ آپ چپ کرکے الیکشن کروائیں جو بھی اکثریت میں آئے اسے سیاسی ماحول دیکر حکومت پکڑا دیں اور اسے حکومت کرنے دیں ۔اگر آپ نے نئے تجربات کئے تو نقصان ہوگا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان طاقت میں تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ یہ ساری زندگی پاور میں وزیراعظم ہاؤس میں رہے گا جب پتا چلا تو میں نے اس سے اختلا ف کیا۔ملک میں کوئی قانون نہیں ہے جس کی پاور ہے وہ اس کا استعمال کرتا ہے اور وہ قانون بن جاتا ہے ۔یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں عمران خان کی بھی یہی سوچ تھی پکڑ لو مار دو ۔اس ملک میں جب رول آف لاء اس قسم کا ہو تو پھر وہ معاشرہ پروان نہیں چڑھتا ۔جہاں طرز سیاست ایسا ہو اگر بیابینہ اسٹیبلٹمنٹ سے مل جائے تو آپ پاور میں آ جاتے ہیں یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے ۔

ستر سال سے آپ پستی میں گر رہے ہیں ۔اگر ابھی بھی کوئی تجربہ کرنے کی کوشش کی تو ملک آپ کے رہنے کے قابل نہیں رہے ملک تو رہتے ہیں لیکن آپ اس میں رہنے کے قابل نہیں رہتے ۔ ملک میں رہنے کے حالات آپ آہستہ آہستہ ختم کر دیتے ہیں ۔ابھی بھی جو کچھ ہو رہا اس میں اس کے حق میں نہیں ہوں میں سمجھتا ہوں آپ چپ کرکے الیکشن کروائیں جو بھی اکثریت میں آئے اسے سیاسی ماحول دیکر حکومت پکڑا دیں اور اسے حکومت کرنے دیں ۔اگر آپ نے نئے تجربات کئے تو نقصان ہوگا ۔ابھی من پسند لوگ لائے جارہے ہیں یقین کریں ابھی وہ کچھ ہو رہا ہے جو جنرل فیض اور دیگر لوگ کر رہے تھے اور ہم سب دوہائیاں دے رہے تھے آج بھی وہی ہو رہا ہے کوئی فرق نہیں ہے ۔ہم نے کب ٹھیک ہونا ہے چھبیس کروڑ عوام کو کہاں لیکر جانا ہے ۔اگر آپ کے پاس پلان ہے تو الیکشن کرائیں جو بھی جیتے اسے اقتدار دیں اور ملک میں استحکام لائیں۔انہوں نے کہاکہ جو طرز سیاست تحریک انصاف کے لیڈر نے کی اس کے بیک گراؤنڈ میں اگر جائیں انہوں نے جب سیاست شروع کی،دیکھنا یہ ہے کہ یہ 9مئی کے واقعے تک پہنچے کیسے،ان کی مختلف مخالفت پارٹیوں کے بارے میں گفتگو ان کا بیانیہ ،جس طریقے سے انہوں نے ٹیک آف کیا نیا بیانیہ وہاں تک تو ٹھیک تھا،

پھر آگے جن کی بھی مدد سے آپ آئے آپ سرکار میں آگئے،آپ نے سرکاری پارلیمان میں آکر بھی وہی طرز حکمرانی اور سیاست کرنے کی کوشش کی،گالم گلوچ،پریشرائز،وہ کرتے کرتے انہوں نے ہر سرکاری ادارے کو پریشرائز کرنا شروع کیا ،سوشل میڈیا کے ذریعے،تقریریو ں کے ذریعے،دھمکیوں کے ذریعے اور آپ نے دیکھا کہ انہوں نے ججز کو فوج کو اور فوج کے کچھ لوگ بھی ان سے ملے ہوئے تھے،پولیس کو دھمکیوں کے ذریعے پریشرائز کیا،گالم گلوچ بھی کیا۔اب یہ کرتے کرتے وہ 9مئی تک پہنچ گئے،جیسے عثمان ڈار نے کہا کہ یہ آرمی چیف کو انڈرپریشر لانا چاہتے تھے یا انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے،انہوں نے بہت کوشش کی،انٹرنیشنل لابی بھی ان کی مدد کر رہی تھی،

اسی طرح پاکستان میں کچھ فوجی جو اس وقت حاضر سروس تھے آج ریٹائرڈ ہو گئے وہ بھی ان کی مدد کر رہے تھے،تو مقصد یہ ہے کہ یہ پورا پیک گراؤنڈ جو میں بتانا چاہ رہا ہوں،اداروں میں تقسیم کرنے کا کام عمران خان کام کر رہے تھے نو مئی کا واقعہ کوئی ایک دم نہیں یہ سکولوں میں گیا بچوں کو اشتعال دلایا فوج کا بھی ماضی میں سیاست میں حصہ رہا ہے وہ بھی کوئی اتنا شاندار نہیں ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس کی وجہ سے نفرت بڑھتی ہے ریاست کے یا ادارے کے سکول پبلک سیکٹر میں آکر مداخلت شروع کرتے ہیں تو قدرتی طور پر سویلین میں ابہام پیدا ہوتا ہے ان کو خان صاحب نے انٹرنیشل لابی کے ذریعے سے کیش کروایا ۔پاکستان کے دشمن آپ کو معاشی طور پر ہلنے نہیں دے رہے ہیں۔اب آپ کی فوج رہتی اسے بھی کمزور کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں ۔عوام کی نظر میں بدنام کیا جائے اس میں خاصی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں انقلاب لانے والوں کو رونا پیٹنا نہیں چاہئے یہ تو انقلاب لا رہے تھے

Comments are closed.