سوشل میڈیا پر بے سروپا خبریں پھیلائی جاتی ہیں ،تعمیری تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں ، انوار ا لحق کاکڑ

اسلام آباد ( آن لائن ) نگران وزیراعظم انوار ا لحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بے سروپا خبریں پھیلائی جاتی ہیں ،تعمیری تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں ، آزادی اظہار رائے کے نام پر غلط خبریں پھیلانا افسوسناک ہے ،فلسطین کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی پہلے دن سے واضح ہے ، مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام دو ریاستوں کے قیام میں مضمر ہے ، انتہا پسندی کا قلع قمع کیاجائے گا ، نگران وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد سیاسی کردار ادا کرتا رہوں گا ، حکومت کا کام تمام شعبوں میں بہترین پالیسی سازی ہے ،کوشش ہے ایسے اقدامات کرجائیں جو آئندہ آنے والی حکومتوں کیلئے مثال بن جائیں،ماضی میں انتظامی معاملات پر توجہ نہ دینے سے مہنگائی ، گردشی قرضے اور سمگلنگ جیسے مسائل پیدا ہوئے ، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری رہے گی ،

حکومتوں کا کام تمام شعبوں کیلئے موثر پالیسی سازی ہے۔ سرکاری ٹی وی کے ڈیجیٹل میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ماضی میں انتظامی معاملات پر توجہ نہ دینے سے مہنگائی ، گردشی قرضے اور سمگلنگ میں جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں ان پر خاص توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے عوام کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اب تیزی سے بہتری آرہی ہے کوشش ہے معاشی مشکلات پر جلد قابو پالیا جائے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کل سوشل میڈیا کادور ہے مگر سوشل میڈیا پر بے سروپا خبریں پھیلائی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بعض دفعہ ایسی خبریں انتشار کا سبب بنتی ہیں ہم تعمیری تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر آزادی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر غلط خبریں پھیلانا افسوسناک ہے اس کا سدباب کیا جانا چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پہلے دن سے ہماری فلسطین کے حوالے سے ہماری پالیسی بالکل واضح ہے اس میں کوئی د و رائے نہیں ہے مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام دو ریاستی حل میں ہی مضمر ہے اس کے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں ہے اسرائیل اور فلسطین کی موجودہ کشیدگی کے حوالے سے عالمی امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گئے اور فلسطین کی بھی حمایت جاری رکھیں گئے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ کوشش ہے کہ ایسی پالیسیاں بنا کر جائیں جو آنے والی حکومت کیلئے ایک مثال بن جائیں ماضی میں ایسی پالیسیوں کی طرف توجہ نہیں دی گئی عوام کو ریلیف دینے کیلئے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے قلع قمع کیلئے آخری حد تک جائینگے آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی ملک کے امن وامان کی صورتحال کو خراب کرنے اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نواز شریف کے ملک میں واپس آنے کے حوالے سے کوئی رکاوٹ نہیں وہ آسکتے ہیں ان کی گرفتاری کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے عدالت جو فیصلہ کرے گی اس فیصلے کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل تیار کرینگے پالیسی اختیار کرینگے ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد سیاسی کردار جاری رکھوں گا وقت کے لحاظ سے دیکھوں گا کون سے پارٹی جوائن کروں اور کہاں سے سیاست شروع کروں ۔۔

Comments are closed.