پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان برقرار

کراچی ( آن لائن ) پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا اور کے ایس ای100انڈیکس49500پوائنٹس سے گھٹ کر40400پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جبکہ مارکیٹ کے سرمائے میں 26ارب روپے سے زاید کی کمی واقع ہوئی اور53.51فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو کاروبارکا آغاز اگرچہ مثبت ہوا اور مقامی انسٹی ٹیوشنز اور بروکریج ہاؤسز کی منافع بخش شعبوں میں سرمایہ کاری بھی دیکھی گئی جس کی وجہ سے انڈیکس49700پوائنٹس کی بلند سطح پر جا پہنچا تاہم منافع کی خاطر بعض اسٹاک میں فروخت کے دباؤ نے تیزی کو مندی میں تبدیل کر دیا اور انڈیکس کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو کے ایس ای100انڈیکس میں 99.53پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی جس سے انڈیکس 49.531.01پوائنٹس سے گھٹ کر49050.88پوائنٹس پر آگیا اسی طرح 47.87پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای30انڈیکس 16958.11پوائنٹس سے گھٹ کر16910.24پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 33108.42پوائنٹس سے کم ہو کر33050.88پوائنٹس ہو گیا ۔کاروباری مندی کیوجہ سے مارکیٹ کے سرمائے میں 26ارب25کروڑ63لاکھ78ہزار73روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 72کھرب69ارب8کروڑ49لاکھ65ہزار169روپے سے گھٹ کر72کھرب42ارب82کروڑ85لاکھ87ہزار96روپے رہ گیا ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو8ارب روپے مالیت کے33کروڑ26لاکھ6ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ منگل کو10ارب روپے مالیت کے 36کروڑ83لاکھ40ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز مجموعی طور پر 347کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے141کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،185میں کمی اور21کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔کاروبار کے لحاظ سے پاک ریفائنری7کروڑ57لاکھ ،کے الیکٹرک لمیٹڈ3کروڑ74لاکھ ،پاک انٹر نیشنل بلک2کروڑ36لاکھ ،ورلڈ کال ٹیلی کام 1کروڑ49لاکھ حصص کے سودوں سے سرفہرست رہے ۔قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اعتبار سے بہنیرو ٹیکسٹائل کیک بھاؤ میں36.50روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے اسکے حصص کی قیمت959.00روپے ہو گئی اسی طرح پریمیم ٹیکسٹائل کے حصص کی قیمت میں404.85روپے کا اضافہ ہوا جبکہ محمود ٹیکسٹائل کے بھاؤ میں37.50روپے کی کمی واقع ہوئی جس سے اسکے حصص کی قیمت 462.50روپے ہو گئی اسی طرح12.41روپے کی کمی سے نیسلے پاکستان کے حصص کی قیمت 7300.00روپے پر آ گئی

Comments are closed.