موجودہ اسٹیبلٹمنٹ ،جی ایچ کیو تو چیئرمین پی ٹی آئی سے ڈیل نہیں کریں گے

کسی سیاستدا ن نے فوج پر حملہ یا چڑھائی نہیں کی انٹرنیشنل سازش کے تحت فوج کو نشانہ بنایا گیا،محسن جمیل بیگ

اسلام آباد(آن لائن )معروف تجزیہ نگار و صحافی محسن جمیل بیگ نے کہا ہے کہ موجودہ اسٹیبلٹمنٹ جی ایچ کیو تو چیئرمین پی ٹی آئی سے ڈیل نہیں کریں گے ۔کسی سیاستدا ن نے فوج پر حملہ یا چڑھائی نہیں کی۔ انٹرنیشنل سازش کے تحت فوج کو نشانہ بنایا گیا فوج اور فوجی اداروں کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی نے پروپیگنڈہ کیاعوام کو تیار کیا۔

سیاستدا ن انقلاب نہیں لاتا یہ تو انقلاب لا رہا تھا اس وقت تو اس سے کوئی ڈیل نہیں ہوگی اپنے کیسز بھگتے گا ۔جن لوگوں نے عوام کو بتایا کہ فلاں ٹارگٹ پر جانا ہے وہ تو پریس کانفرنس کرکے چلے گئے جن لوگوں نے ان کے کہنے پر یہ سب کچھ کیا وہ ابھی تک جیل میں پڑ ے ہوئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ اگر فوج ڈیل کرتی ہے تو اللہ ماشاء اللہ اور بھگتیں گے اور قوم بھی بھگت لے گی ۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کو عمران خان نے سیاسی جماعت بننے ہی نہیں دیا یہ ایک فین کلب تھا اگر سیاسی جماعت ہوتی توہول سیل میں پریس کانفرنسیں نہ ہو تیں جیسے ثواب کا کام کر رہے تھے ۔کھڑے رہتے دنیا جیلوں میں نہیں جاتی ۔انہوں نے کہاکہ بہت سی پریس کانفرنسیں ہونی ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی بھی پریس کانفرنس کریں گی صرف ان کو یہ یقین ہو جائے کہ خان باہر نہیں آئے گا ۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں قانون عام آدمی کیلئے ہیم خاص لوگوں کیلئے نہیں ہے میاں صاحب کیلئے جو بھی انتظامات کئے گئے ہیں وہ سولڈ ہیں میرا خیال ہے ان کا آنا طے ہے اسے کوئی بھی نام دیدیں،اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔یہاں پر میں بھی سولہ دن جیل میں رہ آیا ہوں یہاں پر اگر کوئی عام قیدی ہو تو اس کو سٹی کے ہسپتال میں بھی نہیں بھیجتے جب تک کوئی اتھارٹیز کے ساتھ بندوبست نہ ہو جائے ،یہاں پر پیسہ چلتا ہے یا سفارش چلتی ہے ،ہمارے یہاں خاص کر لیڈران تھوڑا سا جیل میں رہتے ہیں پھر وہ ہسپتال میں چلتے جاتے پھر وہیں رہتے ہیں ۔اس وقت ٹھیک نہیں ہو تے جب تک ان کی ضمانت نہ ہو جائے ۔بیماری تو کیس دیکھ کرنہیں ہوتی ،اگر کوئی سنگین جرم میں ملوث ہے اگر وہ بیمار ہے تو بیمار ہے وہ تو مریض ہے ۔اس ملک میں دوہرا معیار ہے ،انہوں نے کہاکہ پنجاب میں پی ٹی آئی میدان میں نہیں ہے ان کا لیڈر بھی نہیں ہے لگتا ہے وہ کافی عرصہ تک نہیں ہوگا ن لیگ اپنا پاور شو بھی کریگی ،اس کے بعد وہ انتخابی مہم شروع کریں گے ریلییاں وغیرہ کریں گے الیکشن کمیشن نے جو سوچا ہوا ہے اس کی ڈیٹ سیٹ ہے جنوری کے آخر میں انتخاب ہو جائیں گے ۔

بلاول جو بات کر رہے ہیں تو پھر ان کو مردم شماری کو منظور نہیں کرنا چاہئے تھا ۔یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک شخص کیلئے انتخابات کو تاخیر کا شکار کیا جا رہا ہے تو مشترکہ مفادات کونسل میں پی پی کا وزیراعلٰی بھی تو موجود تھا وہ اس کو منظور نہ کرتے تو الیکشن نومبر میں ہو جاتے ۔پچیس جولائی کو اجلاس بلایا گیا اس کے ایجنڈے سے مردم شماری کو نکال دیا گیا تھا پھر دو ہفتے بعد پھر اجلاس بلایا گیا پھر اس میں سب نے منظور کیا ۔انہوں نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد پارلیمانی سسٹم کا حصہ ہے انگلینڈ میں بارہ تحریک عدم اعتماد لا یا ،تحریک عدم اعتماد آپ کی پارٹی آپ پر کرتی ہے اگر آپ ان کو فارغ ہی کر دیں تو یہ نظام پھر کیسے چلے گا پھر تو جمہوری نظام ہی ختم ہو جائے گا ۔

Comments are closed.