انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کریگا یہ میرا مینڈیٹ نہیں ،انوارالحق کاکڑ

لاہور( آن لائن ) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کریگا یہ میرا مینڈیٹ نہیں ، ہمارا کام الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا ہے،پاکستان میں اس وقت عبوری جمہوریت ہے ،مستحکم جمہوریت نہیں ،قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے ،آزادی اظہار رائے کی بھی کچھ حدود وقیود ہوتی ہیں ،درست فیصلے آپ کی ترقی اور کامیابی کا ضامن ثابت ہوتے ہیں ،افغان مہاجرین کو ملک سے بے دخل نہیں کیا جا رہا ،غیر قانونی مقیم افراد کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے

کوئی بھی ملک بغیر دستاویزات کسی غیر ملکی کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دیتا، نوجوان ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ،ہمیں اپنے نوجوانوں سے بے شمار توقعات ہیں ، طالبعلمی کا زمانہ آپ کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے ، نگران حکومت کا قیام آئینی طریقے سے عمل میں آیا ہے ، انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے ،ہمیں ایک دوسر ے کے سیاسی نظریات کا احترام کرنا چاہیے ،تعصبات سے بالاتر ہوکر ہمیں قومی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنا ہوگا ، معیاری تعلیم کے فروغ میں لمز کا کردار قابل تعریف ہے ۔ ان خیالات کا اظہار نگران وزیراعظم نے لاہور میں لمز کے طلباء و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست میں گفتگو اور طلباء و طالبات کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا ۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ طالب علمی کا زمانہ آپ کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، نوجوان ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں، ہمیں اپنے نوجوانوں سے بہت سی توقعات ہیں۔انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ درست فیصلے آپ کی ترقی اور کامیابی کے ضامن ثابت ہوتے ہیں، معیاری تعلیم کے فروغ میں لمز یونیورسٹی کا کردار قابل تعریف ہے، انسان اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے، کوشش ہوگی کہ آئندہ بھی طلبا و طالبات کے ساتھ نشستیں ہوتی رہیں

۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ نگران حکومت کا قیام آئینی طریقے سے عمل میں آیا، الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنا میرا مینڈیٹ نہیں ہے، ہمارا کام الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے الیکشن میرے وزیراعظم بننے سے پہلے تاخیر کا شکار ہو چکے تھے۔انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد پراپگنڈا کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر ایسے کلچر کو پروموٹ نہیں کرنا چاہئے، سوشل میڈیا پرتنقید کرنے والے کسی کی ماں، بہن کو بھی نہیں چھوڑتے، پاکستان میں اس وقت عبوری جمہوریت ہے، مستحکم جمہوریت نہیں ہے۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے سیاسی نظریات کا احترام کرنا چاہئے، تعصبات سے بالاتر ہوکر ہمیں قومی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنا ہوگا، آزادی اظہاررائے کی بھی کچھ حدود وقیود ہوتی ہیں، نومئی جیسے واقعات کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی، نومئی کا واقعہ بہت افسوسناک تھا، قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں ہے۔انوارالحق کاکڑ نے مزید کہاکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا ملے گی، قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے، افغان مہاجرین کوملک سے بے دخل نہیں کیا جا رہا، غیرقانونی مقیم افراد کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے، دنیا میں کسی بھی غیرملکی کو ویزے کے بغیر آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔

Comments are closed.