اسلام آبا د(آن لائن) بی این پی کے سربراہ اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد پر اتنا تشدد کیا جاتا تھا کہ وہ لوگ بات بھی نہیں کرتے تھے
اسلام آبا دمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم مجبوراً پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے اپنا احتجاج کررہے ہیں، مشرف کے دور سے آج تک مختلف مسلح جتھے پالے ہوئے ہیں، مسلح جتھوں کی نہ صرف پشت پناہی ہورہی بلکہ ان کو لائسنس دیا گیا ، انہون نے مزید کہا سیاسی ورکروں ادیبوں شاعروں کو قتل کیا جاتا ہے، ان لوگوں کو باقاعدہ فنڈ دیا جاتا ہے سرکاری اہلکاروں کو بھی قتل کیا جاتا ہے، کوہلو، مستونگ، قلات، پشین، چمن، خضدار اور خاران میں جتھے پالے ہوئے ہیں ، بلوچستان میں مکمل مارشل لاء ہے جس کی مثالیں آپ کو یہاں پر بھی ملے گی، نگران حکومت کی زمہ داری شفاف انتخابات ہیں، اگر پہلی ، چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں لاپتہ افراد کے معاملے میں مداخلت کریں، لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لایا جائے، توتک کمیشن اور مسنگ پرسنز کمیشن پر عمل کیا جائے۔
Comments are closed.