راولپنڈی (آن لائن)لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس مرزا وقاص روٴف نے متروکہ وقف املاک کی جانب سے لال حویلی سیل کرنے کیخلاف دائر پٹیشن میں معاملے پر دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے اور متروکہ وقف املاک کے چیئر مین کو ہدائیت کی کہ وہ تمام معاملے کو ایک بار پھر سماعت کریں اور درخواست گزاروں کو ان کے دفاع اور پراسیکیوشن کا پورا موقع دیا جائے عدالت نے تب تک لال حویلی کو ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے اور لال حویلی سیل کرنے کے خلاف پٹیشن نمٹا دی ہے گزشتہ روزسماعت کے موقع پر شیخ رشیداپنے وکیل سردار عبدالرازق اور ان کے معاون سردار شہباز خان کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے جبکہ متروکہ وقف املاک کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر آصف خان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل صدیق اعوان اور متروکہ وقف املاک کے وکیل حافظ احسان عدالت میں موجود تھے اس موقع پر عدالت کے مقرر کردہ معاون عمران افراسیاب ایڈووکیٹ نے قانونی نکات سے عدالت کو آگاہ کیا اس موقع پر متروکہ وقف املاک بورڈ کے وکیل کا موقف تھا کہ بورڈکی ملکیتی جائیدادمیں لال حویلی سمیت بورڈ کی اراضی کے 7 یونٹ شیخ رشید کے قبضے میں ہیں اس طرح لال حویلی کے یونٹ D-157 اور لال حویلی سے متصل بوہڑ بازار کے دیگر6 یونٹس پر شیخ رشید کا قبضہ ہے سرکاری اراضی پر وقف املاک بورڑ نے 1994 میں قانونی کاروائی شروع کی اورشیخ رشید کو متعدد نوٹس بھیجے گئے جبکہ سال 2014 میں متروکہ املاک بورڈ نے اراضی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا مقدمہ کیالیکن شیخ رشید کے سیاسی اثر و رسوخ سے مقدمہ مسلسل التوا کا شکار رہا
اس طرح سال 2020 میں معاملے کی دوبارہ انکوائری شروع کی گئی تو شیخ رشیداس وقت بھی مختلف بہانوں سے مقدمے کی پیروی سے غیر حاضر رہے جبکہ درخواست گزار کے وکیل کا موقف تھا کہ فیصلے کا اختیار نہ ہونے کے باوجود چیئر مین متروکہ وقف املاک نے عجلت میں یہ فیصلہ جاری کیا اور اس کے لئے ہمیں دفاع کا موقع بھی نہیں دیا گیا اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بھارت میں قانون بن گیااور وہاں متروکہ وقف املاک کی جائیدادوں کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیالیکن ہمارے ہاں محکمے قانون کے مطابق نہیں چلتے جب مرضی سرگرم ہوجاتے ہیں عدالت نے متروکہ وقف املاک کے چیئر مین کو ہدائیت کی کہ وہ تمام معاملے کی از سرنو سماعت کریں اور درخواست گزاروں کو ان کے دفاع اور پراسیکیوشن کا پورا موقع دیا جائے عدالت نے لال حویلی کو ڈی سیل کرنے کی بھی ہدائیت کر دی۔
Comments are closed.