ریکوڈک منصوبہ پاکستان کے لئے امید کی کرن بن گیا

اسلام آباد( آن لائن ) ریکوڈک منصوبہ، پاکستان کے لئے امید کی کرن بن گیا ۔ایس آئی ایف سی اور غیر ملکی کمپنی بیرک کے اشتراک سے بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے سے پاکستان معاشی استحکام کے سفر پر گامزن ہے ریکوڈک منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے، ریکوڈک منصوبہ ملک کے پسماندہ صوبے میں ترقی کا نیا باب کھولے گا ریکوڈک منصوبہ تقریباً 7,500 لوگوں کو روزگار فراہم کرے گا اس کے ساتھ ساتھ پیداوار کے مرحلے کے آغاز میں 4,000 طویل المدتی ملازمتوں کیمواقع پیدا ہونگے ۔

رپورٹ کے مطابق ریکوڈک کے پاس 5.87 بلین ٹن تانبے اور 42 ملین اونس سونے کے ذخائر موجود ہیں ریکوڈک منصوبے کی مد میں بیرک 7 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا خواہشمند ہے ریکوڈک منصوبے کا 50 فیصد بیرک، 25 فیصد وفاق جبکہ 25 فیصد بلوچستان کو ملے گا۔ریکوڈک منصوبے کی تکمیل دو مراحل میں کی جائے گی پہلے مرحلے میں ملکی اثاثوں میں 4 بلین ڈالر جبکہ دوسرے مرحلے میں 7 بلین ڈالر کے ذخائر کا اضافہ ہوگاریکوڈک منصوبے سے 2028ء تک پہلی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تانبا قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیزکا اہم جزو ہے جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگاماہرین کا کہنا ہے کہ کان کنی کے شعبے میں ریکوڑک منصوبے سے جدت آئے گی اورملک کی مجموعی برآمدات میں اضافہ ہوگا”ریکوڈک منصوبے کی کامیابی سے او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور دیگر مقامی کمپنیز پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو نگے ریکوڈک منصوبہ ملکی معیشت کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگاریکوڈک منصوبے سے ملک میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا

Comments are closed.