ورلڈ کپ میں پاکستان کی چوتھی فتح، بارش سے متاثرہ میچ میں نیوزی لینڈ کو 21رنز سے شکست،فخر زمان میچ کا بہترین کھلاڑی قرار
بنگلورو(آن لائن)آئی سی سی ورلڈکپ میں پاکستان نے فخر زمان کی شاندار سنچری کی بدولت نیوزی لینڈ کو بارش سے متاثرہ میچ میں ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت 21 رنز سے شکست دیدی اور ورلڈ کپ میں چوتھی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات روشن کر لیے ہیں۔ بنگلورو کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ورلڈکپ کے 35ویں میچ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔کیوی اوپنرز ڈیون کونوے اور رچن رویندرا ابتدا میں محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے مثبت آغاز کیا۔ فاسٹ باوٴلر حسن علی نے ڈیون کونوے کو 35 کے انفرادی اسکور پر چلتا کردیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی 100 وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔ اس کے بعد رچن رویندرا کا ساتھ دینے کیوی کپتان کین ولیمسن ئے اور اگلے 24 اوورز میں پاکستانی باوٴلنگ کا کام تمام کردیا۔دونوں کھلاڑیوں نے بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی پاکستانی باوٴلر کو خاطر میں لائے بغیر گیند کو باوٴنڈری کے پار بھیجتے رہے۔
رچن رویندرا نے اس ورلڈ کپ کو یادگار بنانے کا ایک اور موقع نہ گنواتے ہوئے ایونٹ کی تیسری سنچری اسکور کی اور ولیمسن کے ہمراہ دوسری وکٹ کے لیے 180رنز جوڑے۔اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے اور 79 گیندوں پر 2 چھکوں اور 10 چوکوں سے سجی 95 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔دوسرے اینڈ سے رویندرا سے بھی کپتان کی جدائی برداشت نہ ہوئی اور وہ 108 رنز کی عمدہ باری کھیلنے کے بعد محمد وسیم کو وکٹ دے بیٹھے، ان کی اننگز میں 15 چوکے اور ایک فلک بوس چھکا شامل تھا۔نیوزی لینڈ کا 36ویں اوور میں مجموی اسکور 261 رنز تھا اور اس کے تین کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔اس کے بعد کیوی ٹیم کی وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی جاری رہیں لیکن انہوں نے تیز رفتاری سے بیٹنگ کرنا جاری رکھی، ڈیرل مچل نے 18 گیندوں پر 29 رنز، مارک چیمپن نے 27 گیندوں پر 39 رنز، گلین فلپس نے 25 گیندوں پر 41 رنز اور مچل سینٹنر نے 17 گیندوں پر 26 رنز بنائے۔اس طرح نیوزی لینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 401 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 402 رنز کا ہدف دیا ہے۔پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی 10 اوور میں 90 رنز دے کر سب سے مہنگے باوٴلر ثابت ہوئے، تاہم وہ کوئی وکٹ بھی حاصل نہ کرسکے، محمد وسیم سب سے کامیاب باوٴلر رہے، انہوں نے 60 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جبکہ حسن علی نے 82 رنز، حارث روٴف نے 85 رنز اور افتخار احمد نے 55 رنز دے کر ایک ایک وکٹ لی۔پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اسے جلد ہی پہلا نقصان اٹھانا پڑا، جب دوسرے ہی اوور میں عبداللہ شفیق صرف 4 رنز بنا کر آوٴٹ ہوگئے۔فخر زمان کا ساتھ دینے کپتان بابر اعظم کریز پر پہنچے، دونوں میں مل کر پاکستان کو اچھا آغاز فراہم کیا،
خاص طور پر بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے زمان نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 39 گیندوں پر ففٹی اسکور کی۔قومی ٹیم نے 15 ویں اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر سنچری مکمل کی، اس موقع پر 100 رنز کی شراکت داری بھی مکمل کر لی۔فخر زمان نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے 63 گیندوں پر 9 چھکوں کی مدد سے سنچری اسکور کی۔ابھی پاکستان نے 21.3 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 160 رنز بنائے ہی تھے کہ میچ میں بارش نے مداخلت کردی جس کے سبب کھیل کو روکنا پڑ گیا۔بارش کے سبب میچ میں تقریباً ایک گھنٹے کا کھیل ضائع ہوا اور بارش رکنے کے بعد پاکستان کو 41 اوورز میں 342 رنز کا نظرثانی شدہ ہدف ملا ہے۔پاکستان نے اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تو بابر اعظم نے چوکا لگاکر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور پھر دونوں کھلاڑیوں نے اش سودھی کے ایک اوور میں 20 رنز بٹورے اور پاکستان نے 26ویں اوور میں ڈبل سنچری مکمل کر لی۔پاکستان نے 25.3 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 200 رنز بنائے ہی تھے کہ میچ میں ایک بار پھر بارش نے مداخلت کردی۔جب میچ رکا تو پاکستان ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت میچ میں 21 رنز سے آگے تھا اور مقررہ وقت تک میچ شروع نہ ہونے پر پاکستان کو ڈی ایل ایس میتھڈ کے تحت 21 رنز سے میچ کا فاتح قرار دیا گیا۔فخر زمان نے 81 گیندوں پر 11 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 126 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کپتان بابر اعظم نے 63 گیندوں پر دو چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 66 رنز بنائے۔فخر زمان کو ان کی شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
Comments are closed.