راولپنڈی کا تھانہ نصیر آبادنوسر بازوں کی آماج گاہ بن چکا ہے

کسی بھی شریف انسان کو جھوٹی ایف آئی آر میں گرفتار کرنا ان کا وتیرہ بن چکا ہے

راولپنڈی:راولپنڈی کا تھانہ نصیر آبادنوسر بازوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔ کسی بھی شریف انسان کو جھوٹی ایف آئی آر میں گرفتار کرنا ان کا وتیرہ بن چکا ہے اور اس بلیک میل میں آنے والی رقم تھا نہ میں تعینات ایس ایچ او اور دیگر لوگ آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ اسی انچ اور اور اے ایس آئی کے علاوہ دولوگ جن میں سے ایک راو شہر یار نامی بندہ جو اپنے آپ کو وکیل کہتا ہے اور دوسرا راجہ لیاقت نامی بندہ جو اپنے آپ کو صحافی بتاتا ہے شامل ہیں۔حال ہی میں بلال نامی شہری جو کہ تھانہ نصیر آباد کی حدود میں ایک نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں ایک پراجیکٹ بنار ہے۔ اس کے او پر مقدمات درج کر دیے گئے ہیں۔ جس سے بلال لاعلم تھا اور حال ہی میں ایک چوری کے مقدمے میں بلال شاکر کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو سرار جھوٹ پر مبنی ہے۔ راو شہر یار جو ایک وکیل کہلاتا ہے اس نے پہلے بلال سے کچھ شیئر ز دھوکہ دہی اور بلیک میلنگ سے ہٹھیائے اور اب پورا پرا جیکٹ ہٹھیا نے کی پلینگ کر رہا ہے۔ اور اس بابت میں را دو شہر یار اور اس کا صحافی راجہ لیاقت برملہ کہتے پھرتے ہیں کہ ایس ایچ او نصیر آباد ہمارا تعینات کردہ ہے اور سی پی او ہمارا پارٹنر ہے۔ اور راولپنڈی پولیس ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ یہ سب لوگ ملی بھکٹ سے ایک شریف شہری سے اس کی ساری زندگی کی جمع پونچھی جو کہ اس پرا جیکٹ پے گئی ہوئی ہے ہڑپنا چاہتے ہیں۔ پولیس جو کہ شہریوں کی محافظ ہے۔ ایسے عمل میں ان کا شامل ہونا اور نوسر بازوں کے ساتھ مل کر اس عمل میں ان کا ساتھ دینا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ راجہ لیاقت جیسے صحافی صحافت پر ایک بدنما دھبہ ہیں اور راو شہر یار جیسے وکیل وکالت کے پیٹے میں چھپی کالی بھیڑیں ہیں۔

Comments are closed.