ملک میں الیکشن جیسا بھی ہو سیاسی استحکام آنا چاہئے،محسن بیگ
اسلام آباد(آن لائن)سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن جمیل بیگ نے کہا ہے کہ ملک میں الیکشن جیسا بھی ہو سیاسی استحکام آنا چاہئے،لیول پلینگ کی بات جھوٹ ہے،صاف کہنا چاہئے اس کا مخاطب کون ہے؟
نوازشریف سینئر سیاستدان ہیں،وہ صرف اپنی جماعت کی بجائے پورے ملک کا سوچیں،احتساب یا انتقام کی سیاست کی بجائے ملکر ملک کو آگے لے کر چلنا چاہئے،پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد کیلئے ہمدردی کا پیپلزپارٹی کو نقصان ہوسکتا ہے۔ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کی جانب سے لیول پلینگ فیلڈ کی باتیں سب جھوٹ ہے،یہ واضح ہونا چاہئے کہ آپ کس کو مخاطب کر رہے ہیں،اگر سٹبلشمنٹ سے لیول پلینگ فیلڈ لینا ہے تو پھر ان سے جاکر بات کریں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو کسی دوسرے کے کندھے پر سوار ہو کر آگے آنے کے بجائے اپنا انتخابی منشور دینا چاہئے،الیکشن مہم کے دوران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں،اگر آپ نے90کی دہائی والی سیاست کرنی ہے تو یہ تجربہ پہلے بھی ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں صاف وشفاف الیکشن ہونے چاہئیں لیکن ہم تیسری دنیا کے ملک میں رہ رہے ہیں،کیا یہاں پہلے صاف و شفاف الیکشن ہوئے ہیں؟
،صاف و شفاف الیکشن کتابی بات تو ہوسکتی ہے،جیسا بھی الیکشن ہو ملک میں سیاسی استحکام آنا چاہئے ورنہ الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں،سیاسی استحکام ہوگا تو کاروبار چلے گا اور سرمایہ کاری آئے گی۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو اپنی جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان کا لیڈر بننا چاہئے اور پاکستان کا سوچیں،احتساب یا انتقام کی باتوں کی بجائے ملکر آگے بڑھنے کا سوچنا چاہئے،ماضی میں احتساب کے نعروں سے نقصان ہی اٹھانا پڑا ہے،نیب سیاسی انجینئرنگ کیلئے ادارہ ہے،آجکل اینٹی کرپشن متحرک ہیں،پنجاب میں اینٹی کرپشن کے جو کیسز بنائے گئے ہیں ان میں ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسد قیصر کی رابطہ کاری اپنی جگہ لیکن اگر کرپشن کی ہے تو کیا انہیں گرفتار نہیں ہونا چاہئے،فواد چوہدری نے شاید کمٹمنٹ پوری نہیں کی اس لئے گرفتار ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کسی طور پر قابل جواز نہیں،ماضی میں بھی سیاسی لوگوں پر ظلم و تشدد ہوتا رہا ہے لیکن انہوں نے برداشت کیا ،کسی نے 9مئی جیسا کام نہیں کیا جو کہ پی ٹی آئی نے کیا ہے۔
میانوالی میں ہونے والے حالیہ حملے کا بھی اس جماعت کی طرف سے سوشل میڈیا پر شہداء کا مذاق اڑایا گیا ہے،پاکستان کی بقاء کی ضمانت ہماری فوج ہے،جب آپ شہداء کی قربانیوں کا مذاق اڑائیں گے تو ان کے لواحقین پر کیا گزرتی ہے۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا پی ٹی آئی کی طرف نرم گوشہ پنجاب میں ان کا ووٹ حاصل کرنا ہوسکتا ہے لیکن یہ چیز نقصان دہ بھی ہوسکتی ہے،پی ٹی آئی نظریاتی جماعت نہیں بلکہ ایک فین کلب ہے،اس کا ووٹ عمران خان کا ہے،اگر پیپلزپارٹی اس سوچ پر بیانیہ بنا رہی ہے تو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے،پیپلزپارٹی ایک جمہوری جماعت ہے اسے بھٹو اور بے نظیر کے نظریے کو لیکر آگے چلنا چاہئے
Comments are closed.