ای سی او سمٹ میں انوارلحق کاکڑ کا غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل کے احتساب کامطالبہ

تاشقند( آن لائن )نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے محصور غزہ میں جارحیت پر اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل مہلک بمباری افسوسناک ہے ای سی او رکن ممالک پر زور دیتا ہوں کہ وہ غزہ میں جنگ بندی پر زور دیں۔تاشقند میں اقتصادی تعاون تنظیم کے 16ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم کے 16ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرنا میرے لےئے اعزاز کی بات ہے ،پاکستانی وفد کا والہانہ استقبال کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم خطے کی ترقی کیلئے اہم فورم ہے، خطے میں تجارتی سرگرمیوں سے ہی ترقی ممکن ہے، ای سی او ممبر ممالک معدنی وسائل سے مالا مال ہیں، ای سی او ممالک کے درمیان تجارتی راہداریاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ای سی او ریجن میں مزید سرحدی اور تجارتی راہداریوں کی ضرورت ہے، حکومت پاکستان نے سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے خصوصی کونسل قائم کر رکھی ہے، پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں، پاکستان ای سی او کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہیں

،ای سی او فورم کو ایک باقاعدہ شکل دینا ہو گی،ای سی او کا اگلا سیکرٹری جنرل پاکستان سے ہونے پر خوشی ہے۔ نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے محصور غزہ میں جارحیت پر اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی ’مسلسل، مہلک‘ بمباری ’افسوسناک‘ ہے۔ غزہ میں معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا جارہا جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔پنی تقریر کے دوران وزیر اعظم نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو یو این، ایس سی اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں ای سی او رکن ممالک پر زور دیتا ہوں کہ وہ غزہ میں جنگ بندی پر زور دیں، انسانی امداد کی فراہمی کے مطالبے کی حمایت کریں اور اسرائیل کے احتساب کی کوششوں کی حمایت کریں۔

Comments are closed.