پیپلز پارٹی نواز شریف کی طرح ریڈ کارپٹ نہیں صرف صاف شفاف الیکشن چاہتی ہے: خورشید شاہ

لاہور (آن لائن) سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نون لیگ نگراں حکومت میں شامل ہے لیول پلیئنگ فیلڈ کیسے ہو سکتی ہے، پیپلز پارٹی کی صحیح تار نہیں کرے گی الیکشن پنکچر کیے گئے تو بہت بڑا نقصان ہو گا۔ وہ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید چوہدری سے انکی اہلیہ اور پیپلز پارٹی وویمن ونگ لاہور کی جنرل سیکرٹری سونیا خان سے انکی والدہ شمیم نیازی کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ انتخابات میں زور زبردستی کی گئی تو زبردست نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہر جماعت کو انتخابی اتحاد بنانے کا حق ہے اور ہر پارٹی چاہتی ہے کہ اس کا وزیراعظم بنے۔ میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے دوست مولا جٹ کی طرح چیختے ہوئے گھوڑے پر آتے اور چار دن جیل میں چلے جاتے تو سیاست دانوں کا قد بڑھ جاتا مگر ایسا نہ کر کے نواز شریف کا قدرچھوٹا ہوا ہے، بڑا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم لاڑکانہ کا ہو یا لاہور کا ووٹ کے ذریعے روکیں لاٹھی کے ذریعے نہ روکیں، ہمارا گھوڑا اکیلا ہے اس پر چڑھے ہوئے ہیں،گورنر ہاؤس میں نوازشریف کے سیاسی فیصلوں پر کہوں گا کہ پاکستان کے عوام کو دیکھنا چاہئے ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے سب کچھ ہو رہا ہے،

اللہ کرے ملک میں جمہوریت بحال ہوجائے انتخابات ہو جائیں، اگر کسی کو زور زبردستی اقتدار میں بٹھایا گیا تو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، زور زبردستی والی حکومت نہیں چلے گی۔ اگر سلیکشن ہوتی رہی ووٹ استعمال کرنے کا موقع نہ دیا تو نقصان ہوگا عوام سے بات کی جائے۔ خورشید شاہ نے سونیا خان کے گھر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سرپرائز دے سکتے ہیں،پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن چاہئیں، سلیکشن نہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نواز شریف کی طرح ریڈ کارپٹ نہیں صرف صاف شفاف الیکشن چاہتی ہے، سلیکشن اس ملک کے لئے موت ہے 9 مئی کا واقع ڈرٹی قسم کا تھا۔ آصف زرداری کی خاموشی کے سوال پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آصف زرداری خاموش نہیں، ڈٹ کر بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف جو اتحاد بن رہے ہیں اسکے پیچھے کوئی اور طاقت نہیں ہے وہ خود ہی بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب آزادانہ ووٹ ڈالا جاتا ہے تو فیصلے آزادانہ ہوتے ہیں،ہم سے پوچھیں جو کمٹمنٹ کی وہ پوری کی یا نہیں۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سولہ ماہ کی حکومت نے پاکستان کو بچا لیا کیونکہ ملک ڈوب رہا تھا، ملک کو تکنیکی انداز میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، تھرکول کو متعارف کروایا لیکن حکومت جاتے ہیں ٹریلین کا منصوبہ رد کر دیا گیا، 2008 کی حکومت نے ایران پائپ لائن کا معاہدہ کیا تو اسے بند کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بشیر میمن کو سیاسی زبان سیکھنے میں پانچ چھ سال لگیں گے۔ قبل ازیں انہوں نے نوید چودھری کے گھر انکی اہلیہ اور سونیا خان کے گھر انکی والدہ اور پیپلز پارٹی کی بانی رکن شمیم نیازی کی وفات پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔

Comments are closed.